خطبات محمود (جلد 18) — Page 526
خطبات محمود ۵۲۶ سال ۱۹۳۷ء تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب نہیں ہو سکے ہاں غیروں کو ان کی حرکات سے تقویت ضرور پہنچی ہے اور سلسلہ کے خلاف وہ ایک دفعہ پھر پورے جوش کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔اگر وہ صرف اسی بات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا قدم راستی پر نہیں۔ان کے بعض دوستوں نے مجھے چٹھیاں لکھی ہیں جن میں ایک نے مجھ سے یہ دریافت کیا ہے کہ جو سلوک آپ ہم سے کر رہے ہیں کیا یہ نبیوں والا سلوک ہے یا غیر نبیوں والا؟ ان کی مراد اس سلوک سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ مقاطعہ ہے جو ان کا کیا گیا ہے۔میں اُس سوال کے جواب میں پوری دیانتداری کے ساتھ اُس علم کی بناء پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے حاصل ہے یہ کہتا ہوں کہ جو سلوک میں نے ان سے کیا ہے وہ نبیوں والا کی سلوک ہے غیر نبیوں والا نہیں۔میں نے ان کا کوئی بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ ان کی ضرورتوں کے پورا کئے کی جانے کا حکم دے دیا تھا۔چنانچہ میری ہدایت یہ تھی کہ جو ضروریات زندگی سکھوں ، ہندوؤں اور غیر احمدی دکانداروں سے میسر نہ آسکتی ہوں وہ احمدی دُکانداروں کی طرف سے دے دی جائیں۔لیکن چونکہ بعد میں انہوں نے بغیر ثبوت کے جماعت احمدیہ کی طرف مظالم منسوب کرنے شروع کر دیئے اور اس سے یہ خدشہ پیدا ہونے لگا کہ اگر کسی احمدی دکاندار سے وہ مثلاً دودھ لے جائیں اور اس سے اتفاقاً ان کے کسی بچہ کوقر اقر ہو جائے یا مٹھائی سے پیٹ درد ہو جائے تو وہ یہ شور مچانا شروع کر دیں کہ ہمیں زہر ملا کر دیا گیا ت ہے اور اس طرح جماعت کے افراد کو بعض الزامات کے نیچے لائیں۔اس لئے میں نے امور عامہ کو حکم دیا کی کہ ایسے دکاندار مقرر کر دیئے جائیں جن سے وہ سو دالے سکیں۔لیکن خود انہوں نے اس حکم سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور میں آج بھی اس امر کیلئے تیار ہوں کہ ان کی ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے دکاندار مقرر کر دوں۔غرض میں نے ان کا کوئی بائیکاٹ ان معنوں میں نہیں کیا جن معنوں میں کہ نبیوں کے دشمن کیا الله کرتے ہیں۔اصل بائیکاٹ وہ تھا جو مکہ والوں نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کا کیا کہ انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ جو شخص بھی مسلمانوں کے پاس سو دا فروخت کرے گا ہم اُسے سزا دیں گے۔اس کے بر خلاف ہم نے تو یہ کہا تھا کہ ہم ان کے پاس اس دکاندار کو سودا بیچنے کی اجازت دیں گے جس کے متعلق اس شبہ کی کوئی صورت نہ ہوگی کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے تعلقات دوسرے منافق طبع لوگوں سے قائم کرنا چاہتے ہیں۔اور اگر ان کی غرض محض سو دا خرید نا ہوتی زید یا بکر سے ملنا نہ ہوتی تو وہ ہمارے اس قائم کردہ