خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 522

خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۷ء خبر کا تکرار کیا اور دوبارہ ان کے خیالات کی خرابی کی اطلاع دی۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے اور نیک بندوں پر بھی جن کو قطعی طور پر مصری صاحب پر شبہ نہیں تھا بلکہ وہ ان کے ایمان کو اتنا مضبوط سمجھتے تھے کہ خیال کرتے تھے کہ ان کے آئینہ میں انہیں اپنی شکل دکھلائی گئی ، اسی خبر کا اظہار کیا گیا۔اور اگر یہ واقعہ بعینہ ظہور میں نہ آجا تا تو وہ یہی سمجھتے رہتے کہ ان کے ایمان میں کوئی نقص ہے۔اب وہ سوچیں اور غور کریں کہ کیا ہم سب نے اللہ تعالیٰ سے مل کر ایک سازش کر لی تھی اور اگر خدا بھی ہماری سازش میں شریک ہو گیا ہے تو پھر مصری صاحب کیلئے تقوی کا طریق یہی ہے کہ وہ کہیں کہ اگر خدا بھی اسی بدی کو دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے تو مجھے اپنی عقل کے نقص کا اقرار کرتے ہوئے اعتراض سے رُک جانا چاہئے۔پس میں ان کے اور ان کے ساتھیوں کے تمام اعتراضوں اور ان کے اور ان کے تمام ساتھیوں کی گالیوں اور تمام دشنام طرازیوں کو بھلاتے ہوئے نہایت ہی اخلاص اور محبت اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں اور اس کے حضور عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اگر میں حق پر نہیں ہوں اور مجھے یہ طریق عمل اختیار کرنے کی میں غلطی لگی ہے تو اپنے فضل سے مجھے ہدایت دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ عاجزانہ اور منکسرانہ رنگ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کیلئے سامان پیدا کر دے گا۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کا لحاظ نہیں کرتا ، خواہ وہ ہندو سے مسلمان بنا ہو یا عیسائی سے مسلمان ہوا ہو۔خدا اپنے سلسلہ کی عظمت کو بڑھانا چاہتا ہے اور خواہ کس قدر روکیں درمیان میں حائل ہوں وہ اسے بڑھا کر رہے گا۔وہ مجھے کہتے ہیں کہ اگر وہ الزامات جو وہ مجھ پر لگاتے ہیں جھوٹے ہیں تو میں موکد بعذاب قسم کھاؤں۔حالانکہ مستریوں کے مقابلہ میں بھی میں نے کہا تھا اور اب بھی میں کہتا ہوں کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کے امور کیلئے جن کے متعلق حدود مقرر ہیں اور گواہی کی کے خاص طریق بتائے گئے ہیں، قسموں وغیرہ کا مطالبہ جائز نہیں بلکہ ایسے مطالبہ پر قسم کھانا بھی اس حکمت کو باطل کر دیتا ہے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ہاں جس پر الزام لگایا گیا ہو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اختیار ہے کہ جب وہ مناسب سمجھے الزام لگانے والے کو مباہلہ کا چیلنج دے۔لیکن چونکہ وساوس و شبہات میں مبتلا مبتلا رہنے والا انسان خیال کر سکتا ہے کہ شاید میں نے قسم سے بچنے کیلئے اس قسم کا عقیدہ تراش لیا ہے اس لئے کم سے کم اس شخص کی تسلی کیلئے جو جانتا ہے کہ جھوٹی قسم کھا کر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔میں کہتا ہوں کہ میں اُس خدائے قادر و توانا