خطبات محمود (جلد 18) — Page 451
خطبات محمود ۴۵۱ سال ۱۹۳۷ء کہ حضرت عائشہ پر الزام بعض دوسرے وجودوں کو نقصان پہنچانے کے لئے لگایا گیا ہو۔اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے یا ان کے کی سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ایک ادنی تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جاسکتی تھی۔ایک رسول کریم ہے سے اور ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھی اور ایک کی بیٹی تھیں۔یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی یا اقتصادی لحاظ سے یا دشمنیوں کے لحاظ سے بعض لوگوں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی۔یا بعض لوگوں کی اغراض ان کو بد نام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ورنہ خود حضرت عائشہ کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہ ہو سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہوسکتا تھا اور یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شاید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہ کو رسول کریم ﷺ کی نظروں سے گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کیلئے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔بلکہ حضرت عائشہ کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریمہ کی بیویوں میں سے جس بیوی کو میں اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کرتی تھی وہ حضرت زینب با تھیں۔ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنا رقیب خیال نہیں کرتی تھی۔مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب کے اس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگایا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کا انکار کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینب ہی تھیں۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو وہ ان کی سوتوں کو ہی ہوسکتی تھی۔اور وہ اگر چاہتیں تو اس میں حصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کا نگاہ سے گر جائیں اور ان کی عزت بڑھ جائے۔مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں دخل ہی نہیں دیا۔اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اُس نے حضرت عائشہ کی تعریف ہی کی۔چنانچہ ایک اور بیوی کی کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے اُن سے اِس معاملہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو سوائے خیر کے عائشہ میں کوئی چیز نہیں دیکھی۔۲۰ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی دشمنی نکالنے کا امکان اگر کسی کی طرف سے ہو سکتا تھا تو ان کی سوتوں کی طرف سے مگر ان کا اس معاملہ میں کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔اسی طرح مردوں کی