خطبات محمود (جلد 18) — Page 447
خطبات محمود ۴۴۷ سال ۱۹۳۷ء لوگوں کا ذکر کیا جو اپنی بیویوں پر مکاری کا الزام لگاتے ہیں۔پھر اِنَّ الَّذِينَ جَاءُ وُا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنكُمُ ! کہہ کر مخصوص طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کا ذکر کرتا ہے۔پھر الزام لگانے کے نقائص بیان اور فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ لي اللَّهَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔یہاں دور کوع سورہ نور کے ختم ہو جاتے ہیں۔پھر اسی مضمون کو اگلے رکوع میں بھی جاری رکھتا اور فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ۔پھر اس شبہ کا ازالہ کرتا ہے کہ شاید صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانا کوئی اہمیت رکھتا ہے۔عام الزام ایسے خطرناک نہیں ہوتے اور فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ الْعَفِلَتِ الْمُؤْمِنَتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ - ے اس کے بعد چوتھار کوع شروع ہوتا ہے اور پھر اسی سلسلہ میں کی مختلف ہدایات دی گئی ہیں کہ ان الزامات کے مراکز کو کس طرح روکنا چاہئے۔چنانچہ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُو وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا - ا اس موقع پر ایک دوست محمد احمد صاحب مالک محمود الیکٹرک سٹور قادیان نے ٹارچ لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔اس پر حضور نے ہاتھ سے بتایا کہ اس ٹارچ کے اندر جو بلب ہے اس کی باریک تاریں مصباح ہیں اور وہ گول شیشہ جس میں بلب رکھا جاتا ہے وہ زجاجہ ہے اور اس کا بیرونی دائرہ طاقچہ یاری فلیکٹر ہے جو روشنی کو لمبا کر کے آگے کی طرف پھینکتا ہے۔گویا تیرہ سو سال ترقی کرنے کی کے باوجود سائنس روشنی کے متعلق اسی مقام پر آکر ٹھہری ہے جو قرآن کریم نے بتایا تھا اس سے آگے۔نہیں بڑھی )۔پھر اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ بدی سے محفوظ رہنے کے ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے قُل الِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ۔پھر شادیوں کا ذکر کرتا ہے اور اس پر 14 چوتھار کو ع ختم ہو جاتا ہے۔گویا پہلے رکوع سے لے کر چوتھے رکوع تک سب میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔کسی جگہ الزام لگانے والوں کے متعلق سزا کا ذکر ہے، کسی جگہ الزامات کی تحقیق کے طریق کا ذکر ہے، کسی جگہ شرعی ثبوت لانے کا ذکر ہے، کسی جگہ ایسے الزامات لگنے کی وجوہ کا ذکر ہے، کسی جگہ اُن دروازوں کا ذکر ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔غرض تمام آیتوں میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔