خطبات محمود (جلد 18) — Page 443
خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۷ء توری فلیکٹر کی وجہ سے بہت دور دور تک روشنی پہنچا دیتے ہیں۔ہمارے مینارہ اسی پر جب روشنی کرنے کا سوال پیدا ہوا اور اس پر بحث ہوئی کہ لیمپ کیسے لگائے جائیں تو ری فلیکٹر لگوانے کا سوال زیر بحث آیا اور ماہرین فن نے بتایا کہ پانچ سو طاقت کی اگر بتی لگائی جائے اور اس پر اعلیٰ درجہ کا ری فلیکٹر لگا دیا جائے تو اس سے کئی گنے طاقت تک کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے ہے۔مگر چونکہ ری فلیکر بہت گراں آتے تھے ، غالباً اسی لئے پھر وہ منگوائے نہیں گئے۔تو پوری روشنی چمنی کی ہر 109۔کے ذریعہ ہوتی ہے اور پھر اس روشنی کو دور پھینکنے کے لئے اس کے پیچھے ایک ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے تین جہت سے روک کر سامنے کی طرف لے جائے۔اس طرح روشنی مکمل ہو جاتی ہے اور لوگ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ تین چیزیں ہیں جن سے نور مکمل ہوتا ہے۔ان میں سے ایک تو شعلہ ہے جو اصل آگ ہے اور جس کے بغیر کوئی نور ہوتی ہی نہیں سکتا۔روحانی دنیا میں وہ شعلہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور چمنی جس سے وہ نور روشن ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا کے ہر ذرہ سے خدا تعالیٰ کا نورظاہر ہے مگر وہ نوری لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ہاں جب خدا کا نبی آتا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، تب ہر شخص کو وہ نور نظر آنے لگ جاتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح بنی جب جلائی جائے تو ہوا کا ذرا سا جھونکا بھی اُسے بجھا دیتا ہے۔اس میں سے دھواں نکل رہا ہوتا ہے مگر جونہی اس پر شیشہ رکھا جاتا ہے اندھیر اسب دور ہو جاتا ہے، تاریکی سب مٹ جاتی ہے اور وہی نور آنکھوں کے کام آنے لگ جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصل چیز شیشہ ہے اصل چیز تو وہ نور ہی ہے جو بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے۔مگر چونکہ وہ نور دھویں کی شکل میں ضائع ہو رہا ہوتا ہے اس لئے لوگ اس سے اس وقت تک فائدہ نہیں اُٹھا سکتے جب تک اُس پر شیشہ نہیں چڑھایا جاتا۔ہاں جب شیشہ چڑھ جاتا ہے تو وہی نور جو پہلے ضائع کی ہو رہا ہوتا ہے ضائع ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پھر چمنی سے مل کر پہلے نور سے ہیں گنے ، سو گنے ، دوسو گنے ، ہزار گنے بلکہ دو ہزار گنے زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔یہ شیشے اور گلوب دراصل انبیاء کے وجود ہوتے ہیں جو خدا کے اس نور کو جو قدرت میں ہر جگہ پایا جاتا ہے لیتے ہیں اور اپنے گلوب اور چمنی کے نیچے رکھ کر اس کا ہر حصہ انسانوں کے استعمال کے قابل بنا دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس نور کو دیکھنے لگی جاتی ہے اُس کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور وہ اس سے فائدہ حاصل کر نے لگ جاتی ہے۔