خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 444

خطبات محمود ۴۴۴ سال ۱۹۳۷ء اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ کے ذکر میں فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا۔وہ فرماتے ہیں انى انستُ نَارًا ہے میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا کی میں بطور نار کے ہوتا ہے۔یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اسے دیکھتا ہے۔اس کی روشنی تیز نہیں ہوتی لیکن جب وہ نبی میں ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہو جاتا ہے یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی تیز ہو جاتی ہے۔نبوت میں آکر یہ نور مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود رہتا ہے۔کیونکہ نبی بھی موت کا شکار ہوتے ہیں۔پس اس روشنی کو دُور تک پہنچانے کیلئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کیلئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے ایک ری فلیکر ایجاد کیا جس کا نام خلافت رکھا۔نبی کی روشنی اس ری فلیکٹر کے ذریعہ سے دور تک پہنچا دی جاتی ہے۔پرانے زمانہ کے طریق کے مطابق اس کا نام طاق رکھا گیا۔جو تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اُس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اس کی ضرورت ہوتی ہے ہے۔اسی طرح خلیفہ نبی کی قوت قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہورہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ماتحت استعمال کرتا ہے اور جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہوتی تو ہی بعض کاموں پر زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی نظام کے ماتحت جماعت کا رو پیدا اور اس کا علم اور اس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے الہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے دنیا کے لحاظ سے مکمل ہوا تھا ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ محمدی نور رسول کریم ﷺ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گیا۔بلکہ ابو بکر کی خلافت کے طاقچہ کے ذریعہ اس کی مدت کو تین سال اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد وہی نور خلافت عمر کے طاق کے اندر رکھ دیا گیا اور سات سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر وہ کی نور عثمانی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور تیرہ سال اس کی مدت کو اور بڑھا دیا گیا۔پھر حضرت عثمان کی وفات کے بعد وہی نور علوی طاقچہ میں رکھ دیا گیا اور وہ چھ سال اور اس نور کو لے گیا۔گویا چھپیں تمہیں سال محمدی نوری خلافت کے ذریعہ لمبا ہو گیا۔جیسے ٹارچوں کے اندر ری فلیکٹر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بلب کی روشنی