خطبات محمود (جلد 18) — Page 420
خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۳۷ء صلى الله سکھ و ہند و آنحضرت محے پر اعتراض کرتے ہیں۔اور ہمارے لئے سوائے خون کے گھونٹ پینے کے اور کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔دنیا ساری کفر و ضلالت میں پڑی ہوئی ہے، عیسائیت ابھی تک خوشی کے ناچ ناچ رہی ہے اور دوسرے مذاہب باطلہ بھی اسلام کے مقابلہ میں بظاہر زیادہ شان و شوکت رکھتے ہیں اور اسلام ابھی غربت کی گھڑیاں گزار رہا ہے۔ان وعدوں کا جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پورا ہونا مقدر تھا ایک اربواں حصہ بھی پورا نہیں ہوا۔پس پیشتر اس کے کہ وہ وعدے پورے ہوں اگر یہ جماعت خراب ہو جائے اور اس کی اکثریت باطل پر ہو تو یہ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بطلان ہوگا۔کیونکہ سنتِ الہیہ یہی ہے کہ نبیوں کے بعد ان کی جماعتیں ان کی روح کو قائم رکھتی ہیں یہاں تک کہ ان کے مقاصد پورے ہو جائیں۔کچھ لوگ مرتد ہو سکتے ہیں، کچھ لوگ منافق ہو سکتے ہیں، لیکن اکثریت کا قدم سچائی پر رہنا ضروری ہے۔حضرت رسول کریم نے سے بھی ایک شخص نے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ الله ! اگر اسلامی نظام مٹ جائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا جدھر اکثریت ہو تو بھی اُدھر شامل ہو جانا اے۔اگر اکثریت کیلئے فساد ممکن ہوتا تو رسول کریم ﷺ یہ ہدایت کیونکر دے سکتے تھے۔آپ کو چاہئے تو یہ تھا کہ یہ فرماتے کہ تو قرآن کریم کے مطابق لوگوں کے دعووں کو پرکھیو اور جو قرآن کہے گا اُس پر عمل کیجیئو۔مگر آپ یہ فرماتے ہیں کہ میرے مقاصد کے پورا ہونے سے پہلے اگر کسی وقت مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو جائے تو تو کوئی اور دلیل نہ دیکھیو، کوئی اور برہان تلاش نہ کیجیو ، کوئی اور کی معیار نہ ڈھونڈ یو، تجھے کسی گہرے غور کی ضرورت نہیں ، تجھے کسی لمبی فکر کی ضرورت نہیں سیدھا دوڑ کر اکثریت کے ساتھ جاملیو۔کیونکہ جدھر اکثریت ہوگی سنت اللہ کے مطابق اُدھر ہی قرآن ہوگا اور خدا تعالیٰ کی سچائیاں تجھے جماعت کی اکثریت میں ملیں گی۔پس رسول کریم ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جب تک نبی کے مقاصد پورے نہ ہو جائیں جماعت کی اکثریت سچائی پر قائم رہتی ہے اور کسی عارضی اور وقتی خلل کے سوا اس کا قدم صداقت کے رستہ سے نہیں پھرتا اور عارضی اور وقتی سے مراد میری ایسا قلیل وقت ہے کہ جو نظام میں رخنہ پیدا نہیں کر سکتا۔جیسے رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد چند گھنٹوں کیلئے مسلمانوں میں انتشار پیدا ہوا۔مگر معا ابوبکر کی آواز رسول کریم ﷺ کی قد وی کو لے کر بلند ہوئی اور سارے مسلمان دوڑ کر آپ کے گر د جمع ہو گئے۔یا جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات کے بعد دو چار دن کیلئے جماعت میں ایک