خطبات محمود (جلد 18) — Page 408
خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۷ء حاصل کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں سے جس نبی یا جس کامل بندے کا انعام تمہارے مناسب حال ہوگا وہ انعام اللہ تعالیٰ تمہیں عطا فرما دے گا اور اگر وہ یہ دیکھے گا کہ تم تمام نبیوں کے انعامات کے مستحق ہو تو تمہیں تمام نبیوں کے انعامات سے حصہ دے دے گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی اپنے متعلق فرمایا کہ آنچه داد ہر نبی جام داد آں جام مرا بتمام کہ وہ جام جو اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کو پلایا تھا وہ اس نے بھر کر مجھے بھی پلا دیا۔تو ممکن ہے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ مقدر کیا ہوا ہو کہ تم سارے نبیوں کے کمالات حاصل کرو۔پھر تم اس سے کسی ایک نبی کا کمال کیوں مانگتے ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض کے کمالات تمہارے کمالات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں ، اس صورت میں تمہارا ان نبیوں کے کمالات طلب کرنا بھی غلطی ہے۔تم خدا تعالیٰ سے صرف یہ مانگو کہ وہ تمہیں اپنے قرب میں بڑھائے اور پہلے کامل بندوں میں سے جس کامل بندے کے ساتھ بھی تمہاری روحانی مناسبت ہے اس کے انعامات سے تمہیں بہرہ ور فرمائے۔اگر خدا دیکھے گا کہ تم ابراہیمی جام کے مستحق ہو تو وہ تمہیں ابراہیمی جام پلا دے گا اور اگر دیکھے گا کہ موسوی جام کے مستحق ہو تو موسوی جام پلا دے گا۔لیکن اگر تم داؤدی جام کے مستحق ہو اور تم اس سے ابراہیمی جام مانگتے رہو یا سلیمانی جام کے مستحق ہو اور تم اس سے عیسوی جام مانگتے رہو تو گو اللہ تعالیٰ تمہارا انعام تمہیں دے دے گا مگر وہ انعام ناقص ہوگا۔کیونکہ تمہاری دعا کسی اور طرف جارہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی اور طرف ہوگا۔لیکن اگر کوئی شخص خود کسی امر کی تعین نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ سے صرف یہ کہتا ہے کہ تو میرے اندر جن کمالات کو دیکھ رہا ہے ان کے مناسب حال جو انعام مجھے ملنا چاہئے وہ دے تو اس کے نتیجہ میں اسے جو جام بھی ملے گا وہ کامل ہوگا۔کیونکہ ایک طرف اس کی دعا اس انعام کو طلب کر رہی ہوگی تو دوسری طرف خدا تعالی کا ارادہ اس انعام کو قریب لا رہا ہو گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے مومن کو یہ سکھایا ہے کہ تم یہ دعا مانگا کرو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ یعنی تم جمع کے صیغے میں دعا مانگا کرو اور یہ کہا کروانی که خدایا ! جو بھی اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں سے ہمارے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور جس کی روحانی قابلیتیں ہماری قابلیتوں سے تو ار د رکھتی ہیں، اس کا جام ہمیں پلا دے۔وہ اگر موسوی جام ہے تو موسوی جامی