خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 401

خطبات محمود ۴۰۱ سال ۱۹۳۷ء بند کرتا ہے تو دوسرا دروازہ فوراً کھول دیتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے اس نبوت کا دروازہ بند کیا جو پہلے جاری تھی تو ایک اور نبوت دنیا میں جاری کر دی جسے امتی نبوت کہتے ہیں۔اور اس میں وہ مقامِ قُرب رکھا کہ باوجود یکہ اُمتی نبی مستقل نبی نہیں ہوتا یعنی ایسا نبی جس نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے نبوت حاصل کی ہو یا کوئی نئی شریعت لایا ہو ، پھر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور وہ اتنا بلند درجہ رکھ سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی بڑھ سکتا ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت نوح سے بھی بڑھ سکتا ہے۔تو قرب کا مقام ویسا ہی کھلا رہا جیسے پہلے گھلا تھا۔بلکہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نمونہ پیش کر کے صلى الله بتا دیا کہ ہم رسول کریم ﷺ کی پیروی میں تمہیں پہلے تمام نبیوں کے کمالات دے سکتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آنچہ داد است نبی را جام داد آں جام مرا بتمام کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے وہ جام جو پہلے انبیاء کو فرداً فرداً ملے تھے وہ تمام جام اللہ تعالیٰ نے اکٹھے کر کے مجھے پلا دیئے ہیں۔اسی بنا پر آپ نے دعوی کیا کہ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں الحق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں ، میں داؤد ہوں ، میں عیسی ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی خلقی طور پر محمد اور احمد ہوں۔گویا رسول کریم ہے کے خاتم النبین ہونے سے قرب اور وصالِ الہی کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت جس کی دنیا کو ضرورت نہیں تھی تکمیل شریعت کی وجہ سے بند کی گئی اور نبوت کی وہ دوسری قسم جو پہلی قسم سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہے کیونکہ اس میں اسی اُستاد کی شاگردی کا مقام حاصل ہوتا تج ہے جو سب نبیوں کی خوبیوں کا جامع ہے، جاری کی گئی۔تو بہت سے ابتلا لوگوں کو اس لئے آتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اب ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کا دروازہ بند ہو گیا حالانکہ خدا اپنے قُرب کے دروازوں کو کبھی بند نہیں کیا کرتا۔ہمارے زمانہ میں جو کئی لوگوں کو ابتلا آتا ہے یا بعض دفعہ بڑے بڑے لوگ یا اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں تو وہ بھی اسی وجہ سے ٹھو کر کھاتے ہیں کہ وہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں نعمت کا دروازہ ہمارے لئے بند ہو گیا۔مثلاً خلافت ہے، وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ ہوتی تو