خطبات محمود (جلد 18) — Page 382
خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۷ء کے بعض دوست ان امور کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے بسا اوقات اس بات پر حیران ہو جاتے ہیں کہ ہماری جماعت میں بھی بعض منافق پائے جاتے ہیں۔اور ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگ مختلف مواقع پر ٹھوکر کھاتے اور مرتد ہو جاتے ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کیلئے یہ صورت حیرت انگیز ہوتی ہے۔حالانکہ اگر وہ سورۂ فاتحہ پر غور کریں تو انہیں معلوم ہو کہ اس ابتدائی سورت میں ہی جو ہمیں دعا سکھائی گئی ہے اس میں بھی اس امر کو بیان کر دیا گیا ہے کہ ایسے فتن ہمیشہ آتے رہیں گے اور مومنوں کی جماعت سے وہ لوگ نکلتے رہیں گے جو منافق طبع ہوں۔جیسا کہ عربی زبان سے واقف لوگ جانتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِينَ ل کی دعا جو ہمیں سکھائی گئی ہے یہ مستقل دعا نہیں۔عام طور پر جو لوگ عربی زبان سے یا قرآن کریم کے مطالب سے ناواقف ہوتے ہیں وہ سورہ فاتحہ کی ان آخری آیتوں کے صرف یہ معنے سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں یہ سکھایا ہے کہ ہم اس سے انعامات کے حصول کی دعا کریں اور پھر یہ بھی دعا کریں کہ اُس کا غضب ہم پر نازل نہ ہو اور نہ ہم گمراہ ہوں۔حالانکہ یہ مفہوم ان آیتوں کا نہیں بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا ہے اور جیسا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل اس کی بات پر زور دیا کرتے تھے اور جیسا کہ عربی زبان کے قواعد سے ہر واقف شخص جانتا ہے کہ اس میں جو دعائی سکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ الہی ! ہم پر تو اپنا انعام نازل کر مگر انعام کے بعد جو تیرا غضب نازل ہوتا ہے یا منعم علیہ گروہ میں شامل ہو کر انسان بعض دفعہ جو ضال بن جاتا ہے اس سے ہمیں بچا اور ہمیں مغضوب اور ضالین میں شامل ہونے سے محفوظ رکھ۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا اگر مستقل ہوتی تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم نے کی دعا سے پہلے اسے لکھا جاتا۔کیونکہ پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچتا اور گمراہی سے محفوظ ہوتا ہے اور بعد میں اسے انعام ملتا ہے۔ایسا نہ کیا جاتا کہ پہلے تو اس کی سے ہدایت طلب کروائی جاتی اور پھر کہا جاتا کہ اب یہ بھی دعا مانگو کہ ہم پر غضب نازل نہ ہو۔مثلاً ایک طالب علم جب امتحان میں کامیابی کے متعلق دعا کرے گا تو یوں دعا کرے گا کہ یا اللہ ! مجھے روزانہ سبق یا د ہوتے رہیں اور پھر امتحان میں بھی میں پاس ہو جاؤں۔کیونکہ امتحان سبقوں کے بعد آتا ہے پہلے نہیں آتا۔اور اگر کوئی طالب علم یہ دعا کرے کہ یا اللہ ! میں امتحان میں پاس ہو جاؤں اور پھر سبق بھی مجھے یاد کی ہوتے رہیں تو سب لوگ اُس کی اس دعا پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ پہلے تمہیں سبق یاد ہونے چاہئیں اس