خطبات محمود (جلد 18) — Page 362
خطبات محمود ۳۶۲ سال ۱۹۳۷ء کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کا معجزہ یہ ہے کہ جو شخص ان کی غلامی اور اتباع کرتا۔خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اُس پر اُترتا ہے اور زمین و آسمان کا خدا اُس سے ہمکلام ہوتا ہے۔تو کیا ہے کوئی چی ہند و جو کہے کہ میں اس سے بڑھ کر اپنے پیشوا کا معجزہ پیش کر سکتا ہوں۔یا ہے کوئی عیسائی جو کہے کہ ان کی کے مسیح کی اتباع سے یہ نعمت انسان کو حاصل ہو سکتی ہے، سب دم بخود ہو جاتے ہیں کیونکہ محمد ﷺ کی غلامی کے سوا یہ نعمت کسی مذہب میں رہ کر انسان کو نصیب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جب ہم قرآن کریم کے معجزات دنیا کے سامنے پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ دنیا کی تمام پارلیمنٹیں اور دنیا کے تمام فلاسفر اور دنیا کے تمام مدبر اور ور عقلمند سب مل کر جو تعلیمیں تجویز کر رہے اور سینکڑوں سال غور کرنے کے بعد انہیں لوگوں کی کامیابی کا ذریعہ بتا رہے ہیں ، وہ ہمارے اُمی آقا اور سردار کی اس تعلیم کے مقابلہ میں جو اس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے پیش کی اگر رکھی جائیں تو خاک ہو کر رہ جاتی ہیں۔تو کس طرح وہ عیسائی جو دوسروں پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کر رہے ہوتے ہیں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ واقعہ میں قرآن کریم جس تعلیم کو پیش کرتا ہے وہی تعلیم اصلی اور اعلیٰ ہے۔پھر کس طرح طلاق کے متعلق غیر تو الگ رہے مسلمان بھی بہانے بنانے لگ گئے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی یہ تشریح ہے اور اس کی وہ تشریح ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ والسلام نے دنیا کو آکر بتایا کہ طلاق بھی ایک ضروری چیز ہے اور جس عورت کو طلاق دی جائے وہ حسبِ منشاء دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے ہے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے یہ تعلیم دی اور آپ نے جو کچھ کہا وہ بالکل سچ ہے۔لوگوں نے اس بات کو سنا اور حقارت کی ہنسی ہنسے مگر کس طرح آج ایک زبر دست بادشاہ نے جس کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا، اسی مسئلہ میں یورپ کے خیالات کی غلطی ثابت کرنے کیلئے اپنی بادشاہت چھوڑ دی۔پادریوں نے بھی زور دیا کہ وہ بادشاہت نہ چھوڑے، مدبروں نے بھی زور لگایا کہ وہ اپنے ارادہ سے باز رہے ، وزراء نے بھی کوشش کی کہ وہ اس اقدام کو ترک کر دے، پارلیمنٹ کے ممبروں نے بھی چاہا کہ وہ اپنے ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنائے، ملک نے بھی خواہش کی کہ وہ تاج و تخت کو نہ ٹھکرائے مگر اس نے صاف کہہ دیا کہ جو ملک یہ کہتا ہے کہ طلاق والی عورت الزام کے نیچے ہے اور اس سے دوبارہ شادی کرنا پسندیدہ نہیں میں اس کی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا۔میں بادشاہت چھوڑ نی آسان سمجھتا ہوں مگر اس خیال کو ترک کرنا میرے لئے مشکل ہے کہ مطلقہ عورت کسی الزام کے نیچے نہیں ہوتی اور اس سے شادی کی تی