خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 351

خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۷ء معنوں میں داخل کیا اور کیا وہ چیز میری تھی ؟ وہ صداقت کی تلوار جس سے میں نے ان علاقوں کو فتح کیا وہ میری نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔پس یہ میرا کام نہیں بلکہ انہی کا کام ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تلوار چلائی وہ بھی آپ کی نہیں تھی بلکہ قرآن اور حدیث اور محمد ﷺ کی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جو کچھ کیا وہ ان کا نہیں بلکہ محمد ﷺ کا کام تھا۔ہمارا کام تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کا پیغام دنیا کے کونوں تک پہنچا ئیں۔ورنہ اگر ہم دنیا کے ایک ایک آدمی کو مسلمان بنالیں اور دنیا کے ایک ایک آدمی کے گند کو نکال کر اُسے تقویٰ اور طہارت سے لبریز کر دیں اور دنیا کی تمام حکومتوں کا نقشہ بدل کر اسلامی حکومتیں قائم کر دیں اور انصاف اور عدل قائم کر کے تمدنی معاملات میں اس قدر تغیر پیدا کر دیں کہ تمام دنیا کے لوگ ایک دوسرے کو بھائی بھائی سمجھنے لگیں۔اسی طرح ہم تجارت ، زراعت اور صنعت و حرفت میں ایسی اصلاح کر دیں کہ تمام انسانوں میں کی مساوات قائم ہو جائے اور سب ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے لگیں۔غرض ہم سب کچھ کر دیں اور ہمارے علاقوں کی وسعت ہزاروں گنے زیادہ ہو جائے اور ہمارے ماتحت افراد کی تعداد لاکھوں گئے بڑھ جائے پھر بھی ہمارا کام رسول کریم ﷺ کے کام کے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔پس ہمارا جس قدر کام ہے یہ ہمارا نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کا ہے اور ہماری تمام کوششیں اپنا نام پھیلانے کیلئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کا نام پھیلانے اور آپ کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے ہیں۔آخر جب ہم امریکہ کے لوگوں سے یہ کہتے ہیں وہ اسلام میں داخل ہو جائیں تو ی ہم ان سے کیا کہلواتے ہیں؟ وہی کلمہ شہادت یعنی لا اله الا اللهُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللهِ - اسی طرح افریقہ کے لوگوں کو جب ہم مسلمان بناتے ہیں، جب ہم سماٹرا، جاوا، چین اور جاپان میں اسلام کی اشاعت کرتے ہیں تو ان لوگوں سے کیا کہلواتے ہیں؟ یہی کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللهِ۔پھر کیا یہ رسول کریم ﷺ کی عزت قائم ہوری ہے یا ہماری عزت قائم ہو رہی ہے ؟ ہماری اور محمد ﷺ کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے ہمالیہ پہاڑ اور سائبان۔سائبان ایک لگتا ہے اور کچھ مدت کے بعد اُٹھ جاتا ہے۔ایک پھٹتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا آ جاتا ہے لیکن ہمالیہ پہاڑ برابر اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور اسے کوئی خص ہلا نہیں سکتا۔اسی طرح خلفا ء آتے اور چلے جاتے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا خلیفہ دنیا میں آتا اور اپنا اپنا فرض سر انجام دے کر چلا جاتا ہے مگر