خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 312

خطبات محمود۔۳۱۲ سال ۱۹۳۷ء حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی مگر ان کے ایمانوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ ممکن ہے دنیا میں انہیں جسمانی طور پر بعض سزائیں ملی ہوں مگر ان کے ایمان ضائع نہیں ہوئے۔پھر بعض نے ان میں سے توبہ کر لی اور بعض کے متعلق ہمیں پورے حالات معلوم نہیں۔بہر حال ان میں سے کسی کے ایمان ضائع ہونے کی خبر ہمیں نہیں ملتی مگر اس زمانہ میں جس نے بھی خلفاء کی مخالفت کی آہستہ آہستہ اس کے مذہب میں بھی رخنہ پڑ گیا اور وہ اصل اسلام اور حمدیت سے بہت دور ہو گیا۔چنانچہ سب سے پہلے مولوی محمدعلی صاحب اور ان کے رفقاء نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی مخالفت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلا جو جلسہ سالانہ ہوا اُس میں اپنی تقریروں کے دوران میں انہوں نے آپ پر حملے کرنے شروع کر دئیے اور جماعت کے لوگوں کو اس امر کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدرانجمن احمد یہ ہے، حضرت خلیفہ اول نہیں۔مگر اس مخالفت کا کیا نتیجہ ہوا ؟ سعد کی طرح ان کا حال نہیں ہوا ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہ کی طرح محض حدود کے قیام تک ان کی مخالفت محدود نہیں رہی بلکہ خلافت کا انکار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی انکار کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ اور مقام کا بھی انکار کر دیا۔بعض ان امور کا بھی انکار کر دیا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عقائد میں شامل فرمایا ہے اور اس طرح ان کے مذہب میں بہت بڑا رخنہ واقع ہو گیا۔پھر مستریوں نے جب میری مخالفت کی تو انہوں نے سب سے پہلے جو اعلان کیا وہ مصری صاحب کی طرح ایک دردمندانہ اپیل ہی تھی اور اس میں لکھا کہ ہم احمدیت سے الگ نہیں ہوئے۔ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر کامل ایمان ہے ہمارا اختلاف صرف موجودہ خلیفہ سے ہے ور نہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ ہم احمدیت چھوڑ دیں۔مگر پھر وہی عبد الکریم وفات مسیح کے مسئلہ پر احمدیوں سے مناظرے کرتا رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ بالکل الگ ہو گئے۔آخر یہ فرق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے خلفاء کے منکروں اور موجودہ خلفاء کے منکروں کی سزا میں ہے، کیوں ہے؟ خدا نے اُس وقت کے خلفاء کے منکرین کے ایمان کیوں ضائع نہ کئے اور آج جو خلفاء کا انکار کرتا ہے ، اس کا ایمان کیوں ضائع ہو جاتا ہے؟ اسی لئے کہ آج جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے اور جماعت میں تفرقہ وانشقاق