خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 313

خطبات محمود ۳۱۳ سال ۱۹۳۷ء برا کر تا ہے وہ نہ صرف خلفاء کا انکار کرتا ہے بلکہ اسلام کی اس عملی زندگی پر بھی تبر چلاتا ہے جس کو قائم کرنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے۔لیکن رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اسلام کی عملی زندگی قائم ہو چکی تھی اور خلفاء کا انکارسیاسی نقصان پہنچاتا تھا۔پس چونکہ آج جو شخص خلفاء کی مخالفت کرتا ہے وہ اسلام کی عملی زندگی اور دنیا تج کے ایمان پر تنبر چلاتا ہے ، اس لئے خدا تعالیٰ اس مجرم کی سزا میں اس کا ایمان بھی ضائع کر دیتا ہے۔لیکن کی پہلے زمانہ میں مخالفت، اسلام کو صرف سیاسی نقصان پہنچاتی تھی اس لئے مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں بعض جسمانی سزائی مل جاتیں روحانی سزا اس حد تک انہیں نہیں ملتی تھی۔مصری صاحب بے شک کہہ رہے ہیں کہ گو مجھے خلیفہ وقت سے اختلاف ہے مگر میں احمدیت پر قائم رہوں گا۔پہلوں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے اس اختلاف کو وسیع کر کے احمدیت کے خصائص بھی ترک کر دیئے۔اب میں بتاؤں گا کہ مخالفت اور اختلاف کے باوجود کس طرح احمدیت پر انسان قائم رہتا ہے۔مگر جس قسم کے گندے اعتراض وہ کر رہے ہیں اور جس قسم کے ناپاک حملوں کے کرنے کی ان کی طرف سے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں ، اگر وہ ان پر مصر رہے اور اگر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے توبہ نہ کی تو میں کہتا ہوں احمدیت کیا اگر ان کے خاندانوں میں حیا بھی باقی رہی تو وہ مجھے کہیں۔بلکہ میں اس سے بھی واضح الفاظ میں یہ کہتا ہوں کہ جس قسم کے خلاف اخلاق اور خلاف حیا حملے وہ کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں اگر ان کے خاندان فحش کا مرکز بن جائیں تو اسے بعید از عقل نہ سمجھو۔پس میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اشتہار میں جس قدر مثالیں پیش کی ہیں وہ بالکل غلط ہیں اور ان میں سے ایک بھی ان کے طریق عمل پر چسپاں نہیں ہوتی۔علاوہ ازیں خدا تعالیٰ کے فعل نے پہلے زمانہ اور اس زمانہ میں نمایاں امتیاز قائم کر کے دکھلا دیا ہے۔پس اب جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ پہلوں سے بہت زیادہ سزا کا مستحق ہے اور یقینا اگر کوئی شخص خلافت کے مقابلہ پر اصرار کرے گا اور اپنے اس فعل سے تو بہ نہیں کرے گا تو اُس کا ایمان بالکل ضائع ہو جائے گا اور آج نہیں تو کل وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی حملہ کرنے لگے گا۔اور پھر بالکل ممکن ہے وہ اس سزا کے نتیجہ میں اخلاق فاضلہ کو بھی اپنے ہاتھ سے چھوڑ دے اور حیا اور شرم سے اسے دور کی بھی نسبت نہ کی رہے۔پس زمانہ کے حالات سزاؤں کو بدل دیتے ہیں۔اُس زمانہ کے حالات بالکل اور تھے اور اب کی