خطبات محمود (جلد 18) — Page 308
خطبات محمود ۳۰۸ سال ۱۹۳۷ء بچے۔یہ نہ کہے کہ میرا احمدی نہ ہونا تو بہت بڑا گناہ ہے لیکن احمدی ہو کر نماز نہ پڑھنا یا روزے نہ رکھنا معمولی باتیں ہیں۔جو شخص اس طرح اپنی رضا مندی اور خوشی سے جانتے بوجھتے ہوئے کوئی گناہ کرتا ہے اور اسے چھوڑتا نہیں وہ خدا تعالیٰ کو چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تیری رضا کی پرواہ نہیں۔پس مومن تو ی خدا تعالیٰ کی ادنی ناراضگی سے بھی ڈرتا ہے کجا یہ کہ اس قدر اہم ناراضگی سے نہ ڈرے جو گو کفر نہیں مگر کفر کے دروازہ تک انسان کو پہنچا دیتی ہے۔اور وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ کا اسے مورد بنا دیتی ہے۔دراصل جو شخص نیکیوں کو یہ سمجھ کر چھوڑتا چلا جاتا ہے کہ وہ معمولی ہیں اور گنا ہوں کا اس لئے ارتکاب کر لیتا ہے کہ اس کے نزدیک ان گناہوں کا ارتکاب کوئی بڑی بات نہیں ، اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کسی شخص کو بہادری کا دعوی تھا وہ ایک دن کسی گودنے والے کے پاس گیا اور کہا کہ میرے بازو پر شیر گوردو۔اس نے شیر گودنے کیلئے جب سوئی ماری تو اُسے درد ہوا اور کہنے لگا بتاؤ کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا میں شیر کا کان گود نے لگا ہوں۔کہنے لگا کون سا کان دایاں یا بایاں ؟ اس نے کہا دایاں۔وہ کہنے لگا اچھا اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا تو دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔جب اس نے دوسرا کان بنانے کیلئے سوئی ماری تو پھر اسے درد ہوا اور وہ کہنے لگا اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اب بایاں کان گود نے لگا ہوں۔وہ کہنے لگا اگر بایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔وہ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو اور آگے چلو۔پھر جب اس نے ٹانگ گودنا شروع کی تو وہ پھر کہنے لگا اگر ٹانگ نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا ٹانگ کے بغیر بھی شیر ہو سکتا ہے۔کہنے لگا اسے بھی چھوڑو اور آگے چلو۔اس کے بعد اس نے دوسری ٹانگ گودنی چاہی تو پھر اس نے روک دیا۔یہ دیکھ کر اُس گود نے کی والے نے سوئی ہاتھ سے رکھ دی اور کہنے لگا ایک کان کے بغیر بھی شیر رہ سکتا ہے اور دوسرے کان کے بغیر بھی مگر یہ سب چیزیں چھوڑ دی جائیں تو پھر شیر کا کچھ نہیں رہتا۔تو جب انسان دلیری سے یہ کہتا ہے کہ اگر فلاں نیکی چھوڑ دوں تب بھی ایمان باقی رہتا ہے اور فلاں گناہ کر لوں تب بھی میرے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوسکتا۔وہ آہستہ آہستہ تمام نیکیوں کو چھوڑتا ہی چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اُس کے ایمان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پھر یہ بھی یا درکھو کہ زمانوں کے بدلنے سے سزائیں بھی بدل جاتی ہیں۔اور گو واقعہ ایک ہی قسم