خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 306

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ہے اور اگر ایمان کی کوئی حس ان میں موجود ہے تو وہ میرا کوئی ایک ہی ایسا حوالہ پیش کریں جس میں میں نے یہ کہا ہو کہ وہ میری بیعت سے الگ ہو کر غیر احمدی ہو گئے ہیں۔اِس وقت ہزاروں وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے خطبات کو سُنا اور ہزاروں وہ لوگ ہیں جنہوں نے ”الفضل“ کے ذریعہ میرے خطبات کو پڑھا پھر کیا ان ہزاروں لوگوں میں سے کوئی ایک بھی بتا سکتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب کو غیر احمدی کہا۔جب ایک بھی ایسی گواہی نہیں مل سکتی تو یقیناً انہوں نے غلط بیانی کی۔یقیناً انہوں نے ایک ظیم کیا ، یقیناً انہوں نے لوگوں کو دھوکا و فریب دیا۔اور پھر دیدہ دانستہ ان امور کا ارتکاب کیا کیونکہ ہم پہلے بھی کئی لوگوں کو اپنی جماعت سے خارج کر چکے ہیں اور ہم نے ان میں سے آج تک کسی کو محض جماعت سے الگ ہونے کی وجہ سے غیر احمدی نہیں کہا۔اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت علیؓ کی مخالفت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ”سر الخلافہ“ میں تحریر فرماتے ہیں والحق ان الحق كان مع المرتضى ومن قاتله في وقته فبغی و طغی یعنی سچی بات یہ ہے کہ سچ اور حق جو تھا وہ حضرت علی کے ساتھ تھا۔ومن قاتله في وقته فبغی و طغی " اور حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں جن لوگوں نے آپ کا مقابلہ کیا وہ باغی اور سرکش تھے۔اب چاہے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ہی کیوں نہ ہوں جس کسی نے حضرت علی کا مقابلہ ان کی خلافت میں کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس وقت تک وہ حضرت علی کے مقابلہ میں کھڑا رہا اُس وقت تک وہ باغی اور طافی تھا ( مگر میں جیسا کہ بتا چکا ہوں کہ صحابہ مقابلہ سے پہلے ہی پیچھے ہٹ گئے تھے اور فی الحقیقت مقابلہ کی کرنے والوں میں سے نہ تھے )۔اب اگر مصری صاحب اس لئے خوش ہیں کہ میں گو غیر احمدی نہیں مگر باغی اور طاغی ہوں تو وہ بے شک خوش ہو لیں۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو شخص مومن ہو وہ خدا تعالیٰ کی ادنی سے ادنی ناراضگی سے بھی ڈرتا اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ کے ارتکاب سے بھی خوف کھاتا ہے۔ان کی کو اگر اس بات کی پرواہ نہیں اور انہیں اس بات پر فخر ہے کہ میں باغی اور طاغی ہوں غیر احمدی نہیں تو بیشک اس پر فخر کر لیں ہم بھی انہیں غیر احمدی نہیں کہتے بلکہ باغی اور طاغی ہی کہتے ہیں۔پس یاد رکھو حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی مگر وہ جبری بیعت تھی ، طوعی بیعت نہیں تھی۔اور پھر بیعت کے وقت انہوں نے شرط بھی کر لی تھی کہ حضرت عثمان کے