خطبات محمود (جلد 18) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ ۲۳ سال ۱۹۳۷ء جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ اسلام کی عملی زندگی پر تبر چلاتا ہے (فرموده ۲۳ / جولائی ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں آج بہت زیادہ دیر سے آسکا ہوں جس کی وجہ یہ ہے کہ کل مجھے شدید سر درد کا دورہ ہوا اور اس کی وجہ سے میں رات بھر جاگتا رہا۔صبح اُٹھ کر میں نے برومائیڈ پیا اور تھوڑی دیر کے لئے سو گیا۔پھر کی میں دفتر میں آیا اور کچھ دوست جو مجھ سے ملنے آئے ہوئے تھے ، اُن سے ملا۔اس کے بعد چونکہ بعض حوالے تاریخی کتب سے میں نے نکالنے تھے اس لئے وہ حوالہ جات تلاش کرتا رہا اور ان سے ایسے وقت میں فارغ ہوا جبکہ فسل اور کھانے کے بعد نماز کو بہت دیر ہو جاتی تھی۔چنانچہ میں نے جلدی جلدی ان دونوں کاموں سے فراغت پائی مگر پھر دیر ہوگئی۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں مصری صاحب کے بعض ان اعتراضات کے جوابات دیئے تھے جو انہوں نے اپنے ایک اشتہار میں شائع کئے ہیں اور وہ اعتراض دو تھے۔ایک تو یہ کہ جماعت نے بغیر تحقیق کئے انہیں گالیاں دی ہیں اور دوسرا یہ کہ جماعت نے ایک ایسے آدمی کو گالیاں دی ہیں جس نے جماعت کے مفاد کیلئے قربانی کی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ان کی یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔جماعت نے ان کو کوئی گالیاں نہیں دیں بلکہ انہوں نے جماعت کو گالیاں دیں اور