خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 246

خطبات محمود ۲۴۶ سال ۱۹۳۷ء رکھنا ہر گز مسلح ہونے کی کوئی علامت نہیں اور اگر لاٹھی رکھنا مسلح ہونا ہے تو بالکل ممکن ہے کل میں سوئی لے کر اس طرف سیر کو نکلوں تو وہ کہہ دیں یہ مسلح ہو کر مجھ پر حملہ کرنے کیلئے آئے ہیں۔اس طرح تو کل اگر ہم میں سے کوئی جوتی پہنے پھر رہا ہوگا تو کہہ دیں گے یہ ہمیں جوتیاں مارنے آئے ہیں۔پھر اگر کسی دن ہمارے نوجوان وہاں سے پگڑیاں باندھے گزریں تو کہہ دیں گے کہ یہ پگڑیوں کے کوڑے بنا کر ہمیں ماریں گے یا یہ کہہ دیں گے کہ یہ پگڑیوں کے رستے بنا کر ہمارے گلوں کو گھونٹ دیں گے۔بلکہ ممکن ہے اگر ی کوئی ہم میں سے کوٹ پہن کر اُدھر جا نکلے تو وہ یہ شبہ کرنے لگیں کہ یہ کوٹ اس نے اس لئے پہنا ہے تاتی ے مروڑ کر کوڑا بنائے اور ہمیں مارے۔اس طرح تو اصل علاج ان کی تکلیف کا یہی ہوسکتا ہے کہ ہمارے آدمی اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں۔پس لاٹھی رکھنا ہر گز مسلح ہونا نہیں بلکہ ہماری جماعت میں بھی کی اور دوسرے لوگوں میں بھی اس کا عام رواج ہے اور میں نے یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ جماعت کے مخلص احباب کوشش کریں کہ وہ اپنے ہاتھ میں لاٹھی رکھا کریں۔مسلح ہونے کے معنے تو یہ ہیں کہ ان کے ہاتھ میں تلواریں ہوتیں یا بندوقیں اُٹھائے ہوئے ہوتے تب ہم بیشک کہہ سکتے کہ وہ مسلح تھے لیکن ہاتھ میں سوٹی ہونا تو مسلح ہونے کی کوئی علامت نہیں۔اور اگر وہ محض کسی کے ہاتھ میں سونٹا دیکھ کر اتنی جلدی بدظنی پر اتر سکتے ہیں تو ممکن ہے کل اگر کوئی شخص کلہاڑی لے کر صبح مسواک کاٹنے کیلئے کسی سڑک پر سے نکلے تو وہی یہ شور مچانے لگ جائیں کہ یہ شخص مجھ پر حملہ کرنے کی نیت سے گھر سے نکلا ہے۔اگر اسی طرح بدظنی کا سلسلہ دراز کیا جائے تو دنیا پاگل ہو جائے۔اور یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے تاریخوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دفعہ مدینہ میں بعض کفار آئے۔انہوں نے دھوکا و فریب سے کام لیتے ہوئے آپ سے کہا کہ ہماری ساری قوم اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کر چکی ہے۔آپ ہمارے ساتھ چند آدمی بھیج دیں جو ہمیں اسلام سکھائیں۔آپ نے چند صحابہ اُن کے ہمراہ بھیج دیئے۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو ان کفار نے اور بہت سے کفار اپنے ساتھ شامل کر کے ان کا محاصرہ کر لیا اور لڑائی شروع کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے دو کے باقی تمام صحابہ شہید ہو گئے شے پھر ان دونوں کو وہ مکہ میں لے گئے اور قریش نے گرفتار کرنے والوں کو انعام دے کر انہی کو قید کر لیا۔اسلام میں چونکہ زیر ناف بالوں کی صفائی کا حکم ہے اس لئے ان میں سے ایک صحابی نے ایک دن کسی سے اُسترا مانگا۔ابھی اُسترا ان کے ہاتھ میں ہی تھا کہ گھر والوں کا بچہ کھیلتا ہوا ان کے پاس چلا گیا۔انہوں نے پیار سے اسے اپنے زانو پر بٹھا لیا۔بچے کی و