خطبات محمود (جلد 18) — Page 247
خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۷ء ماں نے جب یہ دیکھا کہ اس صحابہ کے ایک ہاتھ میں اُسترا ہے اور زانو پر ہی بچہ بٹھایا ہوا ہے تو وہ چیچنیں مار کر کہنے لگی خدا کے واسطے میرے بچہ پر رحم کرو اور اسے قتل نہ کرو۔حالانکہ انہوں نے استرا صفائی کیلئے لیا تھا۔قتل کرنے کیلئے نہیں لیا تھا۔تو اس قسم کی بدظنیاں اگر انسان کرے تو ان کی کوئی حد ہی نہیں ہوسکتی۔باقی رہا یہ کہ ان کا گھر دُوربین سے دیکھا گیا اس بارہ میں امور عامہ کی رپورٹ یہ ہے کہ جس کی مکان اور جس جگہ سے دیکھنے کا الزام ہے وہ درست نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پہرہ دارلڑکوں میں سے ایک اپنے گھر سے دور بین لا یا ہوا تھا مگر وہ بند تھی اُس نے کھولی نہیں اور ان کے گھر کے اندر جہاں سے نظر پڑ سکتی ہے وہ اس مکان کی ایک دیوار ہے جس پر کسی لڑکے کا چڑھنا ثابت نہیں ہوا۔ہاں امور عامہ کی تحقیق یہ ہے کہ قاضی عبدالمجید صاحب امرتسری کے مکان سے بعض دفعہ دور بین سے دیکھا گیا ہے لیکن اس مکان کے سامنے مصری صاحب کا زنانہ حصہ نہیں بلکہ مردانہ برآمدہ ہے اور اس جگہ کے لوگ ہر چلنے پھرنے والے کو نظر آتے ہیں۔چونکہ قاضی صاحب کا مکان فاصلہ پر ہے اس لئے شکل پہچاننے کیلئے اس کی مردانہ حصہ کو بعض لوگوں نے دُور بین سے دیکھا ہے۔اب جو ڈور بین کو جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو ی چیز بغیر ڈور بین کے دیکھنی جائز ہو، دور بین سے اس کا دیکھنا اسے کوئی ناجائز شکل نہیں دے دیتا۔پس یہ کہنا کہ بڑا غضب ہو گیا دُور بین سے مکان دیکھ لیا بیوقوفی ہے۔ہاں اگر زنانہ میں نظر پڑے تو یہ یقیناً بُرا فعل ہوگا اور اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کسی نے اس طرح کیا ہے تو میں اسے یقیناً سزا دوں گا۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں امور عامہ کی رپورٹ کے مطابق دور بین سے گھر میں نہیں دیکھا گیا بلکہ مردانہ حصہ جو برلپ سڑک ہے دیکھا گیا۔یا د رکھنا چاہئے کہ مصری صاحب سے سلوک کے متعلق اعلان میری اجازت بلکہ ہدایت کے ماتحت عمل میں لایا گیا ہے۔اسی طرح ان کے گھر کے ارد گرد جو آدمی مقرر کئے گئے ہیں وہ مجھ سے اجازت لے کر مقرر کئے گئے ہیں۔پس ان دونوں امور کی ذمہ داری اس حد تک مجھ پر ہے جس حد تک میں نے ان کا حکم دیا ہے یا ان کی اجازت دی ہے۔ہاں عملی تفصیلات امور عامہ اپنے طور پر طے کرتا ہے۔سودا سلف کے معاملہ میں میری ہدایت یہ تھی کہ جو ضروریات زندگی سکھوں ، ہندوؤں اور غیر احمدی دکانداروں سے میسر آسکتی ہوں ، وہ احمدی دُکان داروں کی طرف سے نہ دی جائیں لیکن جو