خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 245

خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۷ء یکھتے ہیں تو دیکھنے پر انہیں کیا اعتراض ہے۔کیا مصری صاحب انہیں نہیں دیکھتے ؟ اگر تو وہ شیخ صاحب کو کہیں جانے سے روکیں تب تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ مجھے چلنے پھرنے بھی نہیں دیا جاتا لیکن جبکہ وہ آزاد ہیں، وہ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں تو محض دیکھنے سے انہیں کیوں تکلیف ہوتی ہے۔مگر اس بارہ میں کی بھی میں نے امور عامہ کو نصیحت کی ہے کہ کوئی شخص ایسی حرکت نہ کرے جو فی الواقعہ تکلیف کا موجب ہو اور میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ اس بارہ میں زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے گا۔غرض جو لوگ مقرر ہیں وہ اس لئے مقرر نہیں کہ شیخ صاحب کو کوئی تکلیف ہو بلکہ اس لئے مقرر ہیں کہ تا وہ لوگ جو بقول شیخ صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ظاہر میں ہمارے ساتھ ہیں اور باطن میں ان کے ساتھ ، منافقت کو ترک کر کے ظاہر ہو جائیں اور گھلے بندوں شیخ صاحب کے ساتھ جا ملیں اور ہمیں دھوکے میں نہ رکھیں کہ یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔ہم تو خود ان لوگوں کو ان کی طرف بھیج رہے ہیں پھر نہ معلوم شیخ صاحب اور وہ لوگ کیوں خواہ مخواہ ناراض ہیں۔آخر فخر الدین ان سے ملتا ہے یا نہیں ؟ پھر کیا کبھی ہم نے اس کے ملنے پر اعتراض کیا ؟ یا عبدالعزیز ان سے ملتا ہے تو ہم نے کبھی اعتراض کیا ؟ اسی طرح اگر کوئی اور ان سے ملنا چاہتا ہے تو وہ بھی آزاد ہے ہم صرف اسے کہہ دیں گے کہ اب ہمارے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں تم انہی کے پاس رہو۔وہ کہتے ہیں کہ ۴ جولائی کو پندرہ سولہ نوجوان جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ہاکیاں تھیں ان کی کے مکان کی ناکہ بندی کرنے کیلئے آموجود ہوئے۔ان میں سے چند ایک اس مکان میں جو ان کے مکان کے قریب جانب شمال نیا بنا ہے، چلے گئے اور اس کے ایک حصہ پر چڑھ کر جہاں سے ان کے مکان کی بے پردگی ہوسکتی ہے ڈور بین کے ساتھ مکان کے کمروں پر نظر ڈالنے لگ گئے۔اس کے متعلق تحقیقات کر کے ناظر صاحب امور عامہ نے یہ رپورٹ کی ہے کہ اُس دن صرف چار طالب علم مقرر تھے اور ان کے نام یہ ہیں۔عبدالرشید، عبدالشکور، محمد حنیف، ناصر احمد۔میں نے نام اس لئے لے دیئے ہیں که اگر کسی دوست کو شبہ ہو تو وہ ان لڑکوں سے حالات دریافت کر کے حقیقت معلوم کر لے۔پھر یہ کہنا کہ پندرہ سولہ نوجوان مسلح ہو کر وہاں گئے کیسا خلاف واقعہ بیان ہے۔باقی رہا یہ کہ ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ہاکیاں تھیں سو یہ کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔میں نے آج لاٹھیاں رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ میں ۱۹۲۷ ء سے لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھوں میں لاٹھی رکھا کریں۔پس لاٹھی