خطبات محمود (جلد 18) — Page 238
خطبات محمود ۲۳۸ سال ۱۹۳۷ء بہت کا لفظ استعمال کیا جائے تو اور بات ہوتی ہے اور ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے ہزاروں لوگ مراد ہوں لیکن جب ایک ایسی جماعت کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا جائے گا جو کئی لاکھ افراد پر مشتمل ہے تو اس سے یقیناً ہزاروں لوگ ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ہمارے اندازہ میں ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے۔گولڈ کوسٹ میں ہی گورنمنٹ کی مردم شماری کے مطابق ہمارے چوبیس ہزار احمدی ہیں۔پس اگر گولڈ کوسٹ میں چوبیس ہزار احمدی ہو سکتے ہیں تو یقیناً ساری دنیا کے احمدی دس لاکھ سے کسی صورت میں کم نہیں۔لیکن اگر دس لاکھ نہ مانو اور صرف ایک لاکھ لے لوتب بھی پچاس ساٹھ ہزار اور کم از کم دو چار ہزار ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو ان کے نقطۂ نگاہ میں دہر یہ ہو چکے ہیں۔لیکن اتنا بڑا الزام لگانے کے بعد جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ ان تمام لوگوں کے نام بتائیں تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔جس سے ہر حق پسند انسان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہے کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور دیانت کو ترک کرتے ہوئے صرف جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔اب جبکہ ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے یونہی لوگوں کے نام لینے شروع کر دیئے تو وہ ہم پر ناشیں کریں گے ، مقدمے چلائیں گے اور کہیں گے انہوں نے ہماری عزت پر حملہ کر دیا۔ورنہ اگر سچ سچ جماعت میں سے اکثر لوگ دہر یہ ہو چکے ہوتے تو کیا ان کے نام بتانے میں انہیں کوئی ڈر ہو سکتا تھا ؟ اگر میاں فخر الدین اور امی عبدالعزیز کو جو باوجود ایک عرصہ سے شکوک و شبہات پیدا ہونے کے ظاہر ہونے کی جرات نہیں کر سکے ڈر نہیں آیا تو جو لوگ دہر یہ ہو چکے ہوں انہیں کس بات سے ڈر آ سکتا ہے۔مگر واقعہ یہی ہے کہ انہوں نے جماعت پر جھوٹا الزام لگایا اور اب اس ڈر کے مارے نام نہیں بتاتے کہ اگر کسی کا نام لیں گے تو پھنس جائیں گے لیکن ایک طرف اس قدر خاموشی اور دوسری طرف یہ شور مچائے جارہے ہیں کہ ان کی پوتی کا دودھ بند کر دیا گیا۔حالانکہ قادیان میں جتنی گائیں بھینسیں احمدیوں کے پاس ہیں اس سے دگنی ، تگنی گا ئیں بھینسیں غیر احمدیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے پاس ہیں۔پس جو چیز نہایت آسانی سے انہیں قادیان سے میسر آسکتی ہے بلکہ اگر کئی من دودھ چاہیں تو بھی انہیں مل سکتا ہے وہ اس کی تحقیقات تو کرانا چاہتے ہیں مگر جماعت پر اتنا بڑاحملہ کر کے اس کی تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتے۔اب جو واقعات انہوں نے مظالم کے نام سے شائع کئے ہیں، میرے نزدیک ان کے متعلق تحقیق کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ جماعت پر اتنا بڑا اتہام لگا کر