خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 210

خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۷ء گئے ہیں۔ہم ان کا تعاقب بھی نہیں کر سکتے اور اگر یہاں کھڑے رہتے ہیں تو یہ لوگ کسی وقت موقع پا کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور چونکہ ہم تعداد میں تھوڑے ہیں، ہمیں نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم یہاں سے جائیں تو یہ لوگ پشت سے آکر ہم پر حملہ کر دیں گے۔پس میں حیران ہوں کہ اب ہم کیا کریں۔کی میری ایک بیوی بھی ساتھ ہیں اگر چہ یہ یاد نہیں کہ کونسی ہیں اور ایک چھوٹا لڑکا انور احمد بھی یاد ہے کہ ساتھ ہے میرے ساتھی ایک زخمی کو پکڑ کر لائے ہیں جسے میں پہچانتا ہوں اور جو اب وفات یافتہ ہے اور بااثر لوگوں میں سے تھا۔میں نے اسے کہا کہ تم نے یہ کیا غلط طریق اختیار کیا اور اپنی عاقبت خراب کر لی۔مگر وہ ایسا زخمی ہے کہ مر رہا ہے۔مجھے یہ درد اور گھبراہٹ ہے کہ اس نے یہ طریق کیوں اختیار کیا۔مگر جواب میں اُس کی زبان لڑکھڑائی اور وہ گر گیا۔اتنے میں پہاڑی کے نیچے سے ایک شور کی آواز پیدا ہوئی اور کی ایسا معلوم ہوا کہ تکبیر کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا شور ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ جماعت کے غرباء ہیں۔ان کو جب خبر ہوئی کہ آپ سے لڑائی ہو رہی ہے تو وہ آپ کی مدد کیلئے آئے ہیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ جماعت تو ہمیشہ غرباء سے ہی ترقی کیا کرتی ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ غرباء میرے ساتھ ہیں مگر تھوڑی دیر کے بعد تکبیر کے نعرے خاموش ہو گئے اور مجھے بتایا گیا کہ آنے والوں کے ساتھ فریب کیا گیا ہے۔انہیں کسی نے اشارہ کر دیا ہے کہ اب خطرہ نہیں اور وہ چلے گئے ہیں۔مجھے کوئی مشورہ دیتا ہے کہ ہمارے ساتھ بچے ہیں اس لئے ہم تیز نہیں چل سکیں گے آپ نیچے جائیں آپ کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور آپ اس قابل ہوں گے کہ ہماری مدد کر سکیں۔چنانچہ میں نیچے اترتا ہوں اور غرباء میں سے مخلصین کی ایک جماعت کو دیکھتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوں کہ تا مخلصین اکٹھے ہو جائیں۔تم اوپر جاؤ اور عورتوں اور بچوں کو بہ حفاظت لے آؤ۔اس پر وہ جاتے ہیں اور اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ پہلے مرد اترتے ہیں پھر عورتیں لیکن میرالر کا انور احمد نہیں آیا۔پھر ایک شخص آیا اور میں نے اُسے کہا کہ انور احمد کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ وہ بھی آ گیا ہے۔پھر جماعت میں ایک بیداری اور جوش پیدا ہوتا ہے۔چاروں طرف سے لوگ آتے ہیں۔ان جمع ہونے والے لوگوں میں سے شہر سیالکوٹ کے کچھ لوگوں کو پہچانا ہے۔ان کے ساتھ کچھ وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو باغی تھے اور میں انہیں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتحاد کے ذریعہ طاقت دی تھی۔اگر تم ایسے فتنوں میں پڑے تو کمزور ہوکر ذلیل ہو جاؤ گے۔کچھ لوگ مجھ سے بحث کرتے ہیں میں انہیں دلائل کی طرف لاتا ہوں اور