خطبات محمود (جلد 18) — Page 209
خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۳۷ء نے ایک رؤیا دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک تخت پر کھڑے ہیں جو کانپ رہا ہے اور آپ لوگوں سے فرما رہے ہیں کہ پندرہ میں روز یہ دعا کرو ربَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۔کیا اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کے موجودہ طریق کو صحیح قرار دیتے ہیں اور بعض وہ لوگ جو جماعت کو دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔کیونکہ آپ نے فرمایا کہ دعا کر والے اللہ ! ہمیں اس ہدایت پر قائم رکھ اور بہکانے والوں سے بچا۔۴/جنوری ۱۹۳۵ء کے خطبہ میں میں نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا تھا جو ”الفضل میں چھپ چکا ہے اور جو اس طرح ہے کہ میں نے دیکھا ایک پہاڑی کی چوٹی ہے جس پر جماعت کے کچھ لوگ ہیں۔میری ایک بیوی اور بعض بچے بھی ہیں۔وہاں جماعت کے سرکردہ لوگوں کی ایک جماعت ہے جو آپس میں کبڈی کھیلنے لگے ہیں۔جب وہ کھیلنے لگے تو کسی نے مجھے کہا یا یونہی علم ہوا کہ انہوں نے یہ شرط با ندھی ہے کہ جو جیت جائے گا خلافت کے متعلق اُس کا خیال قائم کیا جائے گا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فقرہ کا مطلب یہ تھا کہ جیتنے والے جسے پیش کریں گے وہ خلیفہ ہوگا یا یہ کہ اگر وہ کہیں گے کہ کوئی خلیفہ نہ ہو تو کوئی بھی نہ ہوگا۔بہر حال جب میں نے یہ بات سنی تو میں ان لوگوں کی طرف گیا اور میں نے ان نشانوں کو جو ای کبڈی کھیلنے کیلئے بنائے جاتے ہیں مٹا دیا اور کہا کہ میری اجازت کے بغیر کون یہ طریق اختیار کر سکتا ہے یہ بالکل نا جائز ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس پر کچھ لوگ مجھ سے بحث کرنے لگے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ اکثریت پہلے صرف تلعب کے طور پر یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کون جیتا ہے اور خلیفہ کی تعیین کرتا ہے مگر میرے دخل دینے پر پہلے جو لوگ خلافت کے مؤید تھے وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔گویا میرے روکنے کو انہوں نے اپنی ہتک سمجھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میرے ساتھ صرف تین چار آدمی رہ گئے اور دوسری طرف ڈیڑھ دو سو۔اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ گویا احمدیوں کی حکومت ہے اور میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے خونریزی کے ڈر سے بھی میں پیچھے قدم نہیں ہٹا سکتا اس لئے آؤ ہم ان پر حملہ کرتے ہیں۔وہ مخلصین میرے ساتھ شامل ہوئے۔مجھے یاد نہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہتھیار تھے یا نہیں۔بہر حال ہم نے ان پر حملہ کیا اور فریق مخالف کے کئی آدمی زخمی ہو گئے اور باقی بھاگ کر تہہ خانوں میں چھپ گئے۔اب مجھے خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ تو تہہ خانوں میں چُھپ