خطبات محمود (جلد 18) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۷ء ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے صحابی سے ملنے کیلئے گیا تو انہوں نے روتے ہوئے کہا مجھے خوب یاد ہے جب حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں عظیم الشان فتنہ اُٹھا اور میں نے آپ سے گھبراہٹ کا اظہار کیا تو آپ نے مجھے کہا مولوی صاحب ا گھبرائیں نہیں میں فتنہ پیدا ہونے نہ دوں گا۔میں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ اُس نے مجھے جماعت کا خلیفہ بنادیا اور اُس دن اس الہام کی صداقت کی بنیاد پڑی۔إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اور وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اُن لوگوں پر قیامت تک غالب رہیں گے جو تیرے منکر ہوں گے۔پھر دیکھ لو دشمن کتنی بڑی طاقت لے کر اُٹھا اور اُس کا کیسا عبرتناک انجام ہو ا۔اُس وقت کہا جا تا اور متواتر کہا جاتا تھا کہ یہ بچہ ہے اور ہم بڑی عمر کے ہیں۔یہ جاہل ہے اور ہم عالم ور مفسر قرآن ہیں۔یہ کمزور ہے اور ہمارے ہاتھوں میں سب طاقتیں ہیں۔یہ نادار ہے اور ہمارے پاس روپیہ ہے۔یہ بیوقوف ہے اور ہم عقلمند ہیں۔یہ لوگوں کے قبضہ میں ہے اور ہم صاحب تدبیر ہیں۔غرض یہ تمام حملے ایک طرف تھے اور دوسری طرف ایک چھبیس سالہ نوجوان۔بلکہ اُس وقت میری عمر چھپیں سال بھی پوری نہیں تھی ، ۲۵ برس اور دو مہینہ کی عمر تھی۔پس پچیس برس کا ایک نوجوان ایسی حالت میں کھڑا ہوا جبکہ سلسلہ کے تمام بڑے بڑے لوگ دوسری طرف تھے۔جب جماعت کا خزانہ بالکل خالی تھا صرف چند آنے کے پیسے اُس میں موجود تھے اور اٹھارہ ہزار کا قرضہ صدر انجمن پر تھا۔اُس وقت ی خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا اور بتایا کہ کوئی نہیں جو خدا کے کاموں کو روک سکے اور فرمایا وَلَنُمَزِ قَنَّهُمُ اللہ تعالیٰ تیرے مخالفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور ان کی جمعیت کو پراگندہ کر دے گا۔چنانچہ بعد میں رونما ہونے والے واقعات نے ظاہر کر دیا کہ ایسا ہی ہوا۔پس یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس خدا نے سترہ سال کی عمر میں مجھے خبر میں بتا ئیں اور پھر مخالف کی حالات میں ان باتوں کو پورا کر کے دکھا دیا اور میری نصرت اور تائید کیلئے آسمان سے فرشتے اُتارے اُس خدا کے فضل سے میں کسی وقت مایوس ہو جاؤں۔میں تو ایک اکفر انسان ہوں گا۔ایک نہایت ہی اشقی انسان ہوں گا اگر ایک منٹ کیلئے بھی میں خدا تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید کے متعلق شبہ کروں۔سترہ سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے مجھے وہ الہام کیا اور آج میری عمر سے اڑتالیسواں سال گزر رہا ہے۔