خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۷ء اس گزشتہ میں اکتیس سال کے عرصہ میں دنیا نے اس الہام کی صداقت میں جو کچھ دیکھا وہ اتنا واضح اور اتنا مبرہن لے ہے کہ اس کے بعد خدا تعالیٰ کی نصرت کے متعلق مجھے ایک منٹ کیلئے بھی شبہ نہیں ہو سکتا اور میں واضح سے واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرنے کیلئے تیار ہوں کہ اگر ان مقابلوں میں مجھے زک پہنچ جائے یا میری قائم کی ہوئی باتیں فیل ہو جا ئیں تو یقیناً میں جھوٹا ہوں گا۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے فتنے آنے ضروری ہیں اور بڑے بڑے فتنے ہیں جن کا آنا مقدر ہے مگر تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہدایت نامہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہے کہ جو لوگ کمزور دل ہوتے ہیں وہ فتنوں سے گھبرا جاتے ہیں مگر یا درکھنا چاہئے الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ سے تمہارے لئے فیصلہ کی ایک راہ ہم نے رکھی ہوئی ہے اور وہ خدا کی کتاب ہے۔اس میں کوئی جھوٹی بات نہیں۔انسانی بتائے ہوئے اصول جھوٹے ہو سکتے ہیں۔انسانی بتائی ہوئی تدابیر غلط کی ہو سکتی ہیں مگر خدا کی کتاب لَا رَيْبَ فِيهِ ہے۔کوئی مشکوک یا جھوٹی بات اس میں نہیں۔پھر فرماتا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے اگر تم خدا تعالیٰ پر توکل کرنے اور اس کی طرف توجہ رکھنے والے ہو تو یہ کتاب تمہارے لئے ہدایت کا موجب ہوگی اور تمہیں بچے راستہ پر قائم کر دے گی ہاں تمہارے لئے بھی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر تمہیں کامل یقین ہونا چاہئے۔اگر ی یہ یقین تمہیں حاصل نہیں تو ہدایت بھی میسر نہیں آسکتی۔دنیا کے جس قدر علوم ہیں وہ ایمان کے بغیر بھی ہے۔حاصل ہو سکتے ہیں۔ایک بڑا ڈاکٹر بغیر ایمان کے ہو سکتا ہے۔ایک بڑا وکیل بغیر ایمان کے ہوسکتا ہے ایک بڑا انجینئر بغیر ایمان کے ہو سکتا ہے، ایک بڑا سیاستدان بغیر ایمان کے ہو سکتا ہے، ایک بڑا ہیئت دان بغیر ایمان کے ہو سکتا ہے، ایک بڑا بادشاہ بغیر ایمان کے ہو سکتا ہے، ایک بڑا علم النفس کا ماہر بغیر ایمان کے ہوسکتا ہے ، ایک بڑا تاریخ دان بغیر ایمان کے ہوسکتا ہے مگر فرمایا قرآن کریم سے ہدایت انہی لوگوں کو حاصل ہوسکتی ہے جو متقی ہوں اور يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق ہوں۔کوئی سیاستدان کوئی ادیب، کوئی بیرسٹری، کوئی ڈاکٹر اور کوئی انجینئر دنیوی علوم کے ذریعہ خدائی ہدایت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔پس متقیوں کیلئے ہی قرآنی ہدایت ہے دوسروں کیلئے نہیں۔اور متقی وہ ہیں جو الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا نمونہ ہوں۔یعنی خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھیں اور مصائب و مشکلات سے نہ ڈریں بلکہ یقین رکھیں کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ایک شخص پر ایمان لے آئے ہیں تو خدا تعالیٰ خود ہماری نصرت اور