خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 167

خطبات محمود ۱۶۷ سال ۱۹۳۷ء گے۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔یہ کلام اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پری نازل کیا۔پھر ہزاروں احمدیوں اور غیر احمدیوں پر اس کی تصدیق کیلئے اس کا کلام نازل ہوا۔ہم اگر دعا کرتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمیں خدا کی نصرت پر شبہ ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت جلد آئے تا اس میں ہمارا بھی ہاتھ ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں شامل ہونے کا موقع ہمیں بھی عطا کر دے۔ہماری یہ دعا ئیں اس خوف سے نہیں کہ دشمن ہمیں نقصان پہنچائے گا اور اس شبہ سے نہیں کہ سلسلے کی ترقی کس طرح ہوگی بلکہ اس یقین کے ساتھ ہیں کہ ترقی ضرور ہوگی۔پس آؤ ہم سب مل کر وہ سب سے بڑا حربہ اور سب سے زبردست ہتھیار جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے استعمال کریں اور اپنی کمزوریوں کو اُس کے حضور پیش کر کے اُس کے فضلوں کو ڈھونڈیں تا وہ ہمارے دشمنوں کو زیر کر دے اور سلسلہ کا مؤید و ناصر ہو اور ہر اس کمزوری کو جو جماعت میں پائی جاتی ہے دور کرے اور منافقین کو یا تو ہدایت دے اور یا انہیں ظاہر کر دے تا سلسلہ کی ترقی کے راستہ میں ہر قسم کی روکیں دور ہوں۔اسی طرح کی بیرونی دشمنوں کیلئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو بھی ہدایت نصیب کرے اور اُن کی گالیوں کو دعاؤں میں بدل دے اور اگر ان کے اعمال کو دیکھتے ہوئے وہ ان کی تباہی کا ہی فیصلہ کر چکا ہے تو پھر ہماری دعا یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاتھوں سے تباہ ہوں اور ہماری زندگیوں میں ہوں تا ہم اس کے ثواب میں حصہ دار ہوسکیں۔الفضل ۱۹ / جون ۱۹۳۷ ء )