خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 139

خطبات محمود ۱۳۹ ۱۵ سال ۱۹۳۷ء انسان کو اپنے نفس کے محاسبہ میں لگے رہنا چاہئے فرموده ۲۱ رمئی ۱۹۳۷ء بمقام کراچی) لے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- چونکہ میرے گلے میں تکلیف ہے اس لئے زیادہ بول نہیں سکتا مگر جماعت کے دوستوں کو اس تی امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھائی ہے یہ دو باتوں پر دلالت کرتی ہے۔اس کا ایک تعلق اعلیٰ مدارج کے لوگوں کے ساتھ ہے جسے یہاں اس طرح پر بیان کیا گیا ہے کہ جوں جوں کوئی انسان ترقی کرتا ہے اور کسی بڑے رتبے پر پہنچنا چاہتا ہے وہ دعائیں کرتا جاتا ہے۔مگر چونکہ تمام انسان ایک حالت پر نہیں ہوتے کوئی روحانیت کے اعلیٰ مقام پر ہوتا ہے ہے تو کوئی اس جنگ میں مشغول ہوتا ہے جو شیطان کے ساتھ لڑی جارہی ہو۔پس اگر قسم اول کوملحوظ رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ الہی ! ہمیں اعلیٰ مقام تک پہنچا دے تو یہ بے معنی فقرہ ہوتا ج کیونکہ ایسے شخص کے نزدیک اس آیت کا مفہوم اُس وقت شروع ہو جاتا ہے جبکہ جملہ معلومہ مقامات ختم ہو جاتے ہیں۔جب تک معلومہ مقامات موجود ہوتے ہیں اُس وقت تک مقصود اُس کے سامنے ہوتا ہے جس کیلئے وہ دعائیں کرتا ہے۔جب انسان اخلاق کو حاصل کر لیتا ہے جن کو وہ جانتا ہے اور ان علوم اور عرفان کی باتوں کو حاصل کر لیتا ہے جن کو لوگ علمی طور پر جانتے ہوتے ہیں تو وہ نام لے لے کر دعائیں کرتا ہے۔لیکن جب وہ نہیں جانتا کہ اُس سے آگے کیا ہے تب وہ دعا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا ! جو کچھ مجھے نہیں معلوم وہ بھی دے۔