خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 119

خطبات محمود ۱۱۹ سال ۱۹۳۷ء اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کیلئے لڑنے والے اور جنتی کی مثال یہ ہے کہ غزوہ خیبر میں حضرت علی نے ایک بڑے جنگجو اور زبردست دشمن کو جب زمین پر گرا لیا اور اُسے مارنے لگے تو اُس نے آپ کے منہ پر ٹھوک دیا۔اس پر آپ فوراً الگ ہو کر کھڑے ہو گئے۔اُس نے کہا آپ نے مجھے اس قدر کوشش سے گرایا اور جب مجھے مارنے کا وقت آیا تو اُٹھ کر علیحدہ کھڑے ہو گئے۔آپ پر میری تلوار نے تو کوئی اثر نہ کیا، یہ کیا بات ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جب میں تم سے لڑ رہا تھا تو تمہیں اسلام کا دشمن سمجھ کر لڑتا تھا لیکن جب تم نے مجھ پر تھوکا تو چونکہ مجھے یہ حرکت بُری معلوم ہوئی اور میرے دل میں بغض پیدا ہو گیا۔میں نے نے سمجھا کہ اگر اب میں نے تمہیں مارا تو میں خدا کے نزدیک قاتل ٹھہروں گا کیونکہ میرا تم کو قتل کرنا اپنے غصہ کی وجہ سے ہوگا۔۔تو جن لوگوں کے اندر نفاق ہوتا ہے ان کے دل کے اندر ایک چھوٹی سی رگ ہوتی ہے جو دھڑکتی رہتی اور موٹی ہوتی رہتی ہے۔وہ اس کے کان میں کہتی رہتی ہے کہ تو بڑا آدمی ہے تو نے بہت قربانیاں کی ہیں مگر تیری قدرنہیں کی جاتی۔مگر مومن کے اندر ایک رگ ہوتی ہے۔جو اُسے کہتی رہتی ہے کہ دیکھ تو کتنا ذلیل تھا، کمزور تھا، بے سروسامان تھا مگر اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ اُس نے تجھے بھی خدمت کا موقع دے دیا۔اور جب لوگ اُسے آگے کرتے ہیں تو وہ شرمندہ ہو کر جھک جاتا اور کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے ہی کیا جو کچھ کیا یہ میرا کام نہیں ہے۔پھر لوگ مجھے کیوں آگے کرتے ہیں ، میں نے تو کوئی کام نہیں کیا۔پس مومن اور منافق میں نمایاں فرق یہی ہوتا ہے ورنہ منافق کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔منافق اگر کوئی کام کرتا ہے تو اُسے خیال ہوتا ہے کہ میری قدر ہونی چاہیے مگر مومن کوئی کام کرے تو اس کی کی ندامت بڑھتی اور شرمندگی ترقی کرتی ہے۔وہ جوں جوں اُونچا ہوتا ہے خدا کا جلال اسے زیادہ نظر آتا ہے مگر منافق اپنے آپ کو بڑا اور خدا کے جلال کو چھوٹا سمجھتا ہے۔منافق اور مومن کی مثال یوں سمجھ لو کہ دو شخص ہوائی جہاز میں بیٹھے ہیں۔مومن اونچا ہوتا جاتا ہے اور اسے سورج بڑا اور زمین چھوٹی نظر آتی ہے مگر منافق نیچا ہوتا جاتا اور اسے سورج چھوٹا اور زمین بڑی نظر آتی ہے۔بس یہی فرق دونوں میں ہوتا ہے۔ورنہ نمازیں منافق بھی پڑھتا ہے اور مومن بھی۔روزے دونوں رکھتے ہیں ، حج دونوں کرتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت دونوں کرتے ہیں ، صدقہ و خیرات بھی دونوں کرتے ہیں۔فرق صرف یہ ہوتا۔