خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 114

خطبات محمود ۱۱۴ سال ۱۹۳۷ء جلدی ہاتھ مارنا شروع کیا۔پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ اس نے مجھے جلدی جلدی کھاتے دیکھ لیا۔اس لئے اب یہ اور بھی جلدی جلدی کھانے لگا ہوگا لہذا مجھے اور جلدی کھانا چاہئے اور اُس نے لقمے آدھے ہی چبا چبا کر نگلنے شروع کئے۔پھر اُسے خیال آیا کہ میری اس حرکت کو بھی اس نے دیکھ تو لیا ہی ہے اس لئے ضرور اس نے کوئی اور تدبیر زیادہ سے زیادہ کھانے کی کرلی ہوگی اس لئے مجھے بھی اور زیادہ کھانا تی چاہئے اور اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر اسے خیال آیا کہ اب آنکھوں والے نے بھی کوئی اور تدبیر نکال لی ہوگی اور اس کے مقابلہ میں اس نے ایک ہاتھ سے منہ میں اور دوسرے سے جھولی میں ڈالنا شروع کر دیا۔پھر خیال کیا کہ ضرور ہے اس کے مقابلہ میں بھی اس نے کوئی اور تجویز نکالی جی ہو اور چونکہ اس کے ذہن میں کوئی اور صورت نہ آسکی، اس نے تھالی کو اُٹھاتے ہوئے کہا کہ بس جی ! اب یہ میرا ہی حصہ ہے۔حالانکہ آنکھوں والے نے اُسی وقت سے کھانے سے ہاتھ اٹھالیا تھا جب سے اندھے نے جلدی جلدی کھانا شروع کیا تھا اور اس دوران میں وہ دیکھتا رہا تھا کہ اندھا کیا کرر ہے۔یہی حال منافقوں کا ہوتا ہے۔مومن دیکھتا ہے کہ وہ کیا بیوقوفی کر رہا ہے مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔مگر منافق خیال کرتا ہے کہ اب یہ تدبیریں کرتے ہوں گے اور اس کے مقابلہ میں مجھے یوں کرنا چاہئے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس کے چہرے سے نقاب اُٹھا دیتا ہے اور وہ تھالی اُٹھا کر کہتا ہے کہ یہ میرا حصہ ہے اور دنیا کو پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ منافق ہے۔مومن اُس سے رعایت کرتا ہے اور منافق سمجھتا ہے یہ میری چالا کی ہے۔مومن عفو سے کام لیتا ہے اور یہ سمجھتا ہے میں نے ڈرا دیا۔مومن چشم پوشی کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے میں نے خوب دھوکا دیا۔تمہارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جن کے متعلق میں دس دس اور پندرہ پندرہ سال سے جانتا ہوں کہ وہ منافق ہیں۔اتنے سالوں سے وہ جو جو کارروائیاں اور جو جو بکواس اس سلسلہ کے اور میرے خلاف کرتے رہے ہیں میں جانتا اور سنتا ہوں مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت چالاک ہیں اور ہماری ان باتوں کا کسی و علم بھی نہیں ہو سکتا اور اگر کبھی پتہ لگ جائے کہ ان کی کسی بات کا مجھے علم ہو گیا ہے اور میں خاموش رہوں تو سمجھتے ہیں کہ یہ ڈر گیا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اِن سے ڈرتا نہیں ہوں اور ان کے پاس ہے ہی کیا جس سے میں ڈروں۔کیا ان کے پاس پیغامیوں سے زیادہ طاقت ہے؟ اور پیغامیوں سے نہ ڈرا تو ان کی ذریت سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔پھر میرا خاموش رہنا عدم علم کی و