خطبات محمود (جلد 18) — Page 11
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ملے، اسے پکڑوں۔اور اگر وہ بددیانت ہے تو یہ خیال آئے گا کہ روپیہ لے کر اسے چھوڑ دوں مگر روپیہ بھی تو اسی حالت میں لے گا جب اسے پکڑے گا۔بہر حال چور کو پکڑنے کا خیال اس کے مد نظر ہوگا۔ایک سپاہی کے سامنے بھی ہمیشہ لڑائی ہوگی۔اگر وہ بہادر ہے تو وہ خیال کرے گا کہ اگر لڑائی ہوئی تو میں اپنے کی ملک کیلئے یوں جان قربان کردوں گا اور دشمن کو شکست دوں گا۔اگر کم بہادر ہے تو وہ خیال کرے گا کہ خدا کرے لڑائی نہ ہو۔کیونکہ اگر ہوئی تو مجھے لڑنا پڑے گا۔اور اگر وہ بُز دل ہے تو خیال کر رہا ہو گا کہ اگر لڑائی کی ہوئی تو میں بھاگوں گا کس طرح۔پس خواہ اپنی بہادری دکھانے کیلئے ہو خواہ لڑائی سے بچنے کیلئے اور خواہ کی بھاگنے کی تجاویز سوچنے کیلئے، بہر حال سپاہی کے مدنظر لڑائی ضروری ہوگی۔اسی طرح تم میں سے خواہ کوئی بڑھتی ہے یا دھوبی یا جولاہا، معمولی زمیندار ہے یا ادنی تاجر ، اگر اپنا اپنا کام کرتے وقت اُس کے ذہن میں دُنیا کی اصلاح کی تجاویز نہیں آتیں تو گویا اُس نے اپنی پیدائش کی غرض نہیں سمجھی۔میں تو حیران ہوتا ہوں کہ بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ الفضل میں سیاسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ دنیا کی سیاسیات سے واقف نہیں ہوں گے تو اس کی اصلاح کیسے کریں گے۔کیا سیاست قرآن کریم کا حصہ نہیں ؟ ہاں اگر کوئی بات غلط شائع ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے۔ایک دوست کو شکایت ہے کہ جاپان کے حالات اخبار الفضل میں کیوں درج ہوتے ہیں۔اور یہی لوگ ی ہیں جن کو میں کنویں کے مینڈک کہتا ہوں۔فکر تو یہ ہونی چاہئے کہ جاپان کے حالات تو شائع ہوتے ہیں فلپائن کے کیوں نہیں ہوتے ؟ روس کے کیوں نہیں ہوتے ؟ ی غم تمہیں کھائے جانا چاہئے کہ کیا یہی ہماری پہنچ ہے کہ ہمارے اخبار میں صرف جاپان کے حالات ہی شائع ہوتے ہیں۔ہمارے دوستوں کو اس پر گلہ ہونا چاہئے کہ جو نہیں چھپا نہ کہ اُس پر جو چھپ رہا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا جاپان کی اصلاح ہمارا فرض نہیں ؟ اگر ہے تو اس کے حالات کا علم نہ ہوگا تو ہمارے دل میں اس کیلئے درد کس طرح پیدا ہوگا اور ہم اس کی اصلاح کس طرح کر سکتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی اصلاح کیلئے پیدا کیا ہے۔خاص کر ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اس قدر خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔کیا ایک طبیب کہ سکتا ہے کہ لوگ آکر مجھے تنگ کرتے ہیں جو اپنی بیماریاں مجھے بتاتے ہیں؟ اگر وہ ان بیماریوں سے آگاہ نہ ہو تو علاج کس طرح کر سکتا ہے۔اسی طرح جب تک تم دنیا کے حالات سے واقف