خطبات محمود (جلد 18) — Page 81
خطبات محمود M ۹ سال ۱۹۳۷ء شکر الہی اور انسداد فتن کیلئے روزے رکھے جائیں ( فرموده ۲ را پریل ۱۹۳۷ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں پاؤں کے درد کی وجہ سے آج جمعہ میں آتو نہیں سکتا تھا لیکن چونکہ اس دفعہ روزوں کے متعلق اور ششماہی جلسوں کے متعلق جن میں تحریک جدید کے بارہ میں احباب کو یاد دہانیاں کرائی جاتی یاد ہیں اور ان کو ان کے فرائض کی طرف جو انہوں نے خوشی سے اپنے نفس پر عائد کئے ہوئے ہیں توجہ دلائی جاتی ہے ، ابھی تک میں تحریک نہیں کر سکا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ مختصر الفاظ میں ان امور کے متعلق اعلان کر دوں تا کہ دیر ہو جانے کی وجہ سے بات اور زیادہ دور نہ جا پڑے۔ روزوں کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے سالوں میں ہم پیر اور جمعرات کے روزے رکھ چکے ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض فتنے اپنے فضل سے دور کر دیئے لیکن بعض فتنے ابھی باقی ہیں ۔ اس لئے اس سال ہم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں کچھ تو شکریہ کے روزے رکھنے چاہئیں اور کچھ بقیہ ابتلاؤں کے دور ہونے کیلئے روزے رکھنے چاہئیں ۔ اس لئے اس سال میری تجویز یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ چالیس یا بیالیس دنوں کے اندر ہم سات روزے پورے کریں ہم ایسا طریق اختیار کریں کہ جو رسول کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ وہ بھی ایک رنگ میں پورا ہو جائے اور ہمارے شکریہ کے بھی روزے ہو جائیں اور دعاؤں کے بھی روزے ہو جائیں اس لئے اس سال میں نے یہ تجویز کی ہے کہ اپریل سے لے کر اکتوبر تک جو سات مہینے بنتے