خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 73

خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۷ء مان لیں گے۔ کسی غیر جانبدار شخص کے سامنے اگر یہ باتیں پیش کر دی جائیں تو وہ تسلیم کرے گا کہ میرا نقطہ نگاہ صحیح تھا مگر مولوی صاحب یہی کہتے رہے کہ ہم کسی واجب الاطاعت خلیفہ کو ماننانا جائز سمجھتے ہیں اور جب میں نے کہا کہ آپ لوگ حضرت خلیفہ اول کو چھ سال تک مانتے آئے ہیں تو کہا کہ ایک بزرگ سمجھ کر ہم نے ان کی بیعت کر لی تھی ۔ اس پر میں نے کہا کہ اب بھی کسی بزرگ کو خلیفہ مان لیں میں تیار ہوں کہ اُس کی بیعت کرلوں ۔ مگر وہ کسی بات پر رضامند نہ ہوئے اور جب بحث لمبی ہو گئی تو طبائع میں سخت اشتعال پیدا ہو گیا کہ جماعت کسی فیصلہ پر کیوں نہیں پہنچتی۔ لوگوں نے کمرہ کا احاطہ کر لیا اور بعض نے جماعت دروازے کھٹکھٹانے شروع کر دیئے اور اس میں اتنی شدت پیدا ہوئی کہ بعض شہ پیدا ہوئی کہ بعض شیشے ٹوٹ گئے ۔ جماع کے افراد کہہ رہے تھے کہ باہر آ کر فیصلہ کریں یا ہم خود فیصلہ کر لیں گے ۔ اُس وقت میں نے پھر مولوی صاحب سے کہا کہ دیکھئے ! یہ بہت نازک وقت ہے اور شدید ت ہے اور شدید تفرقہ کا خطرہ ہے میں آر رہ ہے میں آپ سے اسی چیز کا مطالبہ کرتا ہوں جو آپ آج تک خود کرتے آئے ہیں اور آپ اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارے نزدیک جائز ہی نہیں ۔ آپ کے خدشات کا میں نے ازالہ کر دیا ہے اس لئے آپ کے سامنے اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟ یہ نہیں کہ خلیفہ ہونا نہیں چاہئے۔ لیکن اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کیوں اس قدر زور دے رہے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ لوگ کسے خلیفہ منتخب کریں گے۔ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں کہ کسے منتخب کریں گے لیکن میں خود اُس کی بیعت کرلوں گا جسے آپ چنیں گے ۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ لوگ ہم میں سے کسی کو منتخب کریں گے تو جب میں آپ کے تجویز کردہ کی بیعت کرلوں گا تو پھر چونکہ خلافت کے موید میری بات مانتے ہیں مخالفت کا خدشہ ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کیوں زور دے رہے ہیں ۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں اپنا دل چیر کر آپ کو کس طرح دکھاؤں ۔ میں تو جو قربانی میرے امکان میں ہے کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن پھر بھی اگر آپ نہیں مانتے تو اختلاف کی ذمہ واری آپ پر ہوگی نہ کہ مجھ پر ۔ یہ کہہ کر ہم وہاں سے اُٹھے اور اسی مسجد نور میں آگئے جہاں لوگ جمع تھے ۔ بعض لوگوں کی رائے تھی کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کا نام تجویز کریں اور اس کیلئے وہ تیار تھے ۔ مگر ابھی وہ لوگ اُٹھ ہی رہے تھے کہ مولوی محمد احسن صاحب نے خود کھڑے ہو کر میرا نام تجویز کر دیا ۔ اُس وقت جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کیونکہ