خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 7

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کے حالات کے مطابق وہ یہی سمجھتے ہوں کہ دیکھو ہم کتنے طاقتور ہیں۔لیکن ان کے بعد آنے والی نسلیں جن کی تعریف یا مذمت کوئی قیمت رکھتی ہے وہ بغداد کی تباہی یا دتی کے قتل عام کے حالات پڑھ کر جس نفرت و حقارت سے ان افعال کو دیکھتی ہیں اس کا اندازہ اگر اُس وقت ہلا کو یا نادر شاہ کو ہوجاتا تو میں کی سمجھتا ہوں باوجود بڑے بڑے طاقتور بادشاہ ہونے کے وہ ان افعال سے باز رہتے۔وہ بیوقوف لوگ نہیں تھے، سمجھدار اور عقلمند لوگ تھے۔ایک بیوقوف آدمی کس طرح ہزاروں لاکھوں کی کمان کر سکتا ہے اور کس طرح اتنے وسیع رقبوں پر حکمرانی کر سکتا ہے۔ان کی فتوحات اور حکمرانیاں بتاتی ہیں کہ وہ سمجھدار تھے۔مگر یہ افعال بتاتے ہیں کہ اتنے سمجھدار لوگوں پر بھی کسی وقت کمزوری اور ضعف کا وقت آجاتا ہے۔تو یہ جابر بادشاہ جنہوں نے بڑے بڑے رقبوں اور علاقوں پر حکومتیں کیں اپنے دوسرے اعمال سے عقل اور سمجھ کا ثبوت دیتے ہیں مگر ان سے ایسے افعال بھی سرزد ہوئے جنہیں دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید وہ پاگل تھے۔انسانی جان کی قیمت کتنی بڑی ہے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جس نے ایک شخص کو مار دیا اُس نے گویا سارے جہان کو مار دیا۔فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا سے یعنی ایک شخص کے قاتل کی مثال لی ایسی ہی ہے جیسے وہ سارے جہان کا قاتل ہے اور اگر ایک شخص کا قتل ایسا بھیا نک فعل ہے تو جنہوں نے کی شہروں میں قتل عام کر دیا اور حکم دے دیا کہ گلیوں میں چلتا، بازاروں میں پھرتا یا دروازوں میں کھڑا جونی شخص بھی ملے اُسے قتل کر دیا جائے ، وہ کتنے خوفناک جرم کے مرتکب تھے۔مگر اس کے ارتکاب کی اُن کی ج عقلوں نے اجازت دی۔حالانکہ وہ لوگ بڑے بڑے سمجھدار تھے۔اس زمانہ کے لوگ اپنے بزرگوں پر حرف گیری کے بڑے عادی ہیں۔ایک بچہ بھی جب تاریخ میں ان واقعات کو پڑھتا ہے تو کہ اُٹھتا ہے کہ وہ لوگ بڑے وحشی تھے ، بڑے غیر مہذب اور بڑے غیر متمدن تھے کیونکہ انہوں نے ہزاروں اشخاص کو مروا دیا اور دل میں ایک فخر محسوس کرتا ہے کہ اسے خدا نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا ہے یا اگر وہ خدا کا قائل نہیں تو اتفاقی طور پر وہ ایسے زمانہ میں پیدا ہوا ہے جب کہ لوگ بہت مہذب اور بہت متمدن ہیں اور جبکہ ایسی حرکات کو بالکل ناجائز سمجھا جاتا ہے۔مگر غور کرنا چاہئے کہ کیا یہ خیالات درست ہیں؟ کیا واقعہ میں آج انسان ایسا مہذب و متمدن ہو گیا ہے کہ انسانی جان کی قیمت بڑھ گئی ہے ؟ جب ہم دیکھتے ہیں کہ بیسیوں ڈاکٹر اپنے گھروں کو چھوڑ کر