خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 6

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء دُنیا ایک بار پھر عظیم الشان جنگ کے ذریعہ قیامت کا نظارہ دیکھنے والی ہے فرموده ۸/جنوری ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - انسانی عقل ایک ایسے مقام پر کھڑی رہتی ہے کہ جس سے ذرا اِدھر اُدھر ہو کر انسانی تباہی و بربادی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔گویا انسانی ارادہ ہر وقت پل صراط پر رہتا ہے کہ جس کے اندر ذرا سا تغیر یا تبدیلی پیدا ہونے کی وجہ سے نہایت خطرناک نتائج نکل آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اچھے اچھے سمجھدار اور معقول انسان ان غفلت کی گھڑیوں میں جبکہ وہ عقل و فہم کو قابو میں نہیں رکھ سکتے ، ایسی ایسی حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ دوسرے تو الگ رہے وہ خود بھی اپنی عقل کی گھڑیوں میں اپنے آپ کو ملامت کرتے ہیں اور اگر ان پر وہ ساعتیں ملامت کی نہ آئیں تو کم سے کم دنیا ان پر ہمیشہ کیلئے ملامت کرتی رہتی ہے۔وہ جابر بادشاہ جنہوں نے اپنی طاقت کے اوقات میں کئی شہروں اور ملکوں کیلئے قتل عام کے حکم دیئے تھے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان پر ندامت کے ساعات آئیں یا نہ آئیں لیکن اس میں شبہ نہیں کہ تاریخ میں ان واقعات کو پڑھ کر سینکڑوں ہزاروں سال بعد بھی لوگ ان پر لعنتیں بھیجتے ہیں اور ی ان کے افعال کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہلاکو خان اے نے جب بغداد تباہ کیا یا نادر شاہ نے جب دلی کے قتل عام کا حکم دیا اُس وقت