خطبات محمود (جلد 18) — Page 670
خطبات محمود ٦٧٠ سال ۱۹۳۷ء اسے ماننے پر مجبور ہو گی وہ اسے قبول کئے بغیر رہ نہیں سکتی ۔ گویا واقعات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے رنگ میں پیش کیا کہ جس میں شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ تو اس یقین اور وثوق نے حضرت عمر کی حالت بالکل بدل ڈالی ۔ اسی طرح تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک شریر اور مفسد شخص تھا جو گو مسلمان کہلاتا تھا مگر اسلامی احکام پر ہمیشہ بنسی اور تمسخر اڑاتا رہتا۔ لوگ اسے بہت سمجھاتے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ کئی سال کے بعد ایک دفعہ لوگوں نے اسے دیکھا کہ وہ حج کر رہا ہے ۔ یہ دیکھ کر لوگ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ تو تو حج پر ہنسی کرتا اور مخول اُڑایا کرتا تھا مگر آج تو خود حج کرنے کیلئے آگیا یہ تغیر تیرے اندر کس طرح پیدا ہو گیا ؟ وہ کہنے لگا بے شک آپ لوگ مجھے سمجھایا کرتے تھے مگر ہدایت کا کوئی خاص وقت ہوتا ہے۔ ہے ۔ ایک دن کا ذکر ہے میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ گلی میں سے ایک شخص گذرا جو نہایت ہی دردناک لہجہ میں یہ آیت پڑھتا جا رہا تھا کہ اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ ^ے کہ کیا مومنوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بھر جائیں ۔ معلوم نہیں اُس کے دل کی اس وقت کیا کیفیت تھی اور اس کے اندر کس قد رسوز اور در دبھرا ہوا تھا کہ میں یہ آیت سنتے ہی تڑپ اُٹھا اور میں اپنے گناہوں سے توبہ کر کے حج کیلئے چل پڑا۔ تو صداقت اور یقین سے جو تبلیغ کی جاتی ہے اس میں اور دوسری باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور یہی وہ باتیں ہوتی ہیں جو دوسرے کے قلب کو بالکل صاف کر دیتی ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ سے واپس تشریف لائے تو ایک دشمن جس صلى الله کے دور شتے دار مسلمانوں کے ہاتھوں لڑائی میں مارے میں مارے گئے تھے اس نے اپنی تلوار لی اور رسول کریم ہے کے تعاقب میں چل پڑا۔ ایک جنگل میں جب اسلامی لشکر پہنچا تو تمام لوگ آرام کرنے کیلئے ادھر اُدھر صلى الله منتشر ہو گئے ۔ صحابہ کو رسول کریم ﷺ کا ہمیشہ پہرہ رکھتے تھے مگر اُس وقت انہوں نے خیال کیا کہ صلى الله یہاں جنگل میں کون دشمن آنے لگا ہے نے لگا ہے اور سب اِدھر اُدھر درختوں کے نیچے سو گئے ۔ گئے ۔ رسول کریم ﷺ نے بھی اپنی تلوار ایک درخت کی شاخ میں لڑکا دی اور آرام کرنے کیلئے اُس درخت کے نیچے سو گئے ۔ وہ شخص جو تعاقب میں تھا اسی موقع کا منتظر تھا ۔ وہ جھٹ ایک جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور رسول کریم ﷺ کی تلوار اُس نے اُٹھالی ۔ آہٹ پاکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ اُس نے جب آپ صلا