خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 67

خطبات محمود ۶۷ سال ۱۹۳۷ء حالانکہ اللہ تعالیٰ مومن اور کا فردونوں کی طرف یکساں اپنے فضل کو بڑھاتا ہے۔گوجیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ فضل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تعلیم اور تربیت کو مدنظر رکھیں اور ہمیشہ ایک بھائی دوسرے کیلئے مشعلِ راہ بنار ہے اور ماں اور باپ اپنے بچوں کی دینی تربیت ایسے طور پر کریں کہ آئندہ نسلیں اخلاص میں پچھلوں سے کم نہ ہوں بلکہ زیادہ ہوں اور نہ صرف اپنے بچوں کی خبر گیری کریں بلکہ اپنے ہمسایوں اور محلہ کے بچوں کی بھی خبر گیری رکھیں۔کیونکہ کئی ماں باپ کمزور ہوتے ہیں اور وہ تربیت کر ہی نہیں سکتے اور کئی ماں باپ دوسرے کاموں میں ایسے مشغول ہوتے ہیں کہ وہ تربیت کیلئے وقت بھی نہیں نکال سکتے۔پھر جبکہ اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کی صفت کا ہم کو مظہر بنایا ہے تو پھر ہمارا فرض بھی تو ہے کہ ہم صرف اپنی نگاہ کو ایک محدود دائرہ میں مقید نہ رکھیں بلکہ ہماری نگاہ وسیع ہو اور ہمارے ہمسایوں اور محلے والوں کو بھی ہماری ان خوبیوں سے حصہ ملے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں عطا ہوئی ہوں۔اگر ہمارے دوست اِن دو نکتوں کو یا درکھیں اور اپنی نیکیوں کو بے استقلالی کا شکار نہ ہونے دیں اور اپنی نظروں کو مقید ہونے سے بچائیں بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات وسیع ہیں ان کی نیکیاں بھی وسیع ہوں تو یقیناً ہماری جماعت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہو جائے کہ جس کے بعد کوئی تنزیل نہیں اور انہیں ایک ایسی فتح حاصل ہو جس کے بعد کوئی شکست نہیں۔لیکن اگر یہی جگانے اور سونے کا ہی سلسلہ چلتا گیا تو ای انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ دنیا فانی ہے اور کبھی اس دنیا سے جگانے والے بھی اُٹھ جاتے ہیں۔پھر وہ ایسے سوئیں گے کہ جاگنا مشکل ہوگا اور ایسی غفلت کا شکار ہوں گے کہ جس کے آخر میں ہوشیاری کا پتہ نہ چلے گا۔پس انہیں خدا تعالیٰ کی سنتوں کو کھولنا نہیں چاہئے اور اپنے اندر مومن والا استقلال اور مومن والی وسعتِ نظر پیدا کرنی چاہئے تا وہ خدا تعالیٰ کا مظہر اپنی ذات میں ہو جائیں اور خدا تعالیٰ براہ راست خودان پر اپنی نگاہ ڈالے۔میں نے خطبہ کے شروع میں مومن کی مثال ایک آئینہ سے دی تھی۔یہ مجھے خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ایک دفعہ رویا میں سمجھائی گئی تھی۔ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک مکان میں کھڑا ہوں اور میرے سامنے حکیم غلام محمد صاحب مرحوم کھڑے ہیں۔نظر تو وہی اکیلے آتے ہیں مگر خیال ہے