خطبات محمود (جلد 18) — Page 669
خطبات محمود ۶۶۹ سال ۱۹۳۷ء نہیں کروں گا۔آخر انہوں نے اُس صحابی کو جسے انہوں نے مکان میں پوشیدہ کر دیا تھا اندر سے بلایا اور قرآن شریف سنانے کیلئے کہا۔انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات پڑھ کر سنائیں۔چونکہ وہ اس۔پہلے اسلام کی صداقت کے متعلق ایک یقین اور وثوق کا نظارہ دیکھ چکے تھے اور وہ یہ یقین بھری تبلیغ سنتی چکے تھے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر اسلام کو نہیں چھوڑیں گے اور اس قسم کی تبلیغ انہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ، اس لئے قرآن کریم سنتے ہی ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہاں سے اُٹھ کر سیدھے رسول کریم ﷺ کی مجلس میں پہنچے۔بعض صحابہ اور رسول کریم وہ ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے اور صل الله دروازہ بند تھا کہ حضرت عمرؓ نے دستک دی۔آپ نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا عمر۔صحابہ نے کہا يَارَسُولَ اللهِ! يہ شخص بڑا خطرناک اور لڑا کا ہے دروازہ نہیں کھولنا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ آپ کی کوئی بے ادبی کرے۔مگر حضرت امیر حمز گانے جو رسول کریم ﷺ کے چچا تھے اور بڑے بہادر انسان تھے کہا دروازہ کھولو، ڈر کی کونسی بات ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ کھول دو۔جب صحابہ نے دروازہ کھولا تو رسول کریم ہے ان کا استقبال کرنے کیلئے دروازہ تک تشریف لے گئے اور جب حضرت ی عمر اندر داخل ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے عمر! کیا اب تک تمہاری ہدایت کا وقت نہیں آیا ؟ وہ ادھر اپنی بہن کے ایمان کا نظارہ دیکھ کر آئے تھے، ادھر رسول کریم ﷺ کا جب یہ فقرہ انہوں نے سنا تو ان کا جسم سر سے لے کر پیر تک ہل گیا۔کیونکہ اس فقرہ میں گو بظاہر دو چار لفظ ہیں مگر کیسا یقین اور وثوق ہے جو ان الفاظ سے ٹپک ٹپک کر ظاہر ہو رہا ہے کہ جس سچائی اور صداقت کو میں لے کر دنیا میں آیا ہوں سے جلد یا بد برد نیا مان کر رہے گی اور ہر ایک کا ایک وقت ہے جس میں اسے ہدایت ملے گی۔مگر اے عمر ! کیا تیرا وقت ابھی نہیں آیا؟ اس فقرہ کا سنا تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل سے رہی سہی میل بھی دور ہو گئی۔عمران جیسے سخت گیر انسان پر بے انتہا رقت طاری ہو گئی۔بے اختیار ان کی چیخیں نکل گئیں اور وہ کہنے لگے يَارَسُوْلَ اللهِ! میں تو خام ہونے کیلئے آیا ہوں۔کے دیکھو یہ یقین کا اثر ہے جو حضرت عمر پر ظاہر ہوا اور جس نے ان کے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا۔وہ پہلے بھی وہی قرآن سنتے تھے جو انہوں نے بعد میں سنا مگر جب ان کے کانوں میں ایک عورت کی یہ آواز پہنچی کہ میں ہر قربانی کرنے کیلئے تیار ہوں مگر اسلام کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیں۔ادھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ سنا کہ جس سچائی کو میں لے کر آیا ہوں ایک دن دنیا