خطبات محمود (جلد 18) — Page 632
خطبات محمود ۶۳۲ سال ۱۹۳۷ء موسیٰ ! تو نے اس کو دکھ دے کر ہمیں بڑی تکلیف پہنچاتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جب یہ وحی نازل ہوئی تو آپ فوراً اُس کے پاس گئے اور اس سے معافی مانگی۔بالکل ممکن ہے اُس کی یہی باتیں جہالت کی وجہ سے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی تہہ میں محبت و عشق کارفرما ہو اور جذبہ عشق کی فراوانی کی وجہ سے اُس قسم کی باتیں اس کی زبان سے نکل رہی ہوں۔لیکن تم اگر گڈریا کے واقعہ کو جانے بھی دو تو ای مجھے بتلاؤ کہ کونسا عاشق صادق ہے جس کے دل میں باوجود اس یقین کے کہ خدا تعالی مجسم سے پاک ہے یہ خیال نہ آتا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کو جوشِ محبت میں پکڑ لے۔چاہے اس گڈریے کی طرح یہ سب کچھ عالم تصور تک محدود ہو۔لیکن چونکہ اس کی نظر اس بات کی عادی ہو چکی ہے کہ جس محبوب سے اُسے محبت ہوا سے وہ چھوتا ہے ، اس سے مصافحہ کرتا ہے اگر بزرگ ہو تو اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیتا ہے، بچہ ہو تو اس کو چوم لیتا ہے۔اس لئے یہی کیفیت خدا تعالیٰ کے متعلق بھی اس کے دل میں غیر معین اور غیر محسوس طور پر پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لوشاعری میں خدا تعالیٰ کی نسبت وہی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو دنیا میں عام معشوقوں کی نسبت لوگ استعمال کرتے ہیں۔اُس وقت یہ تو نہیں ہوتا کہ شاعر خدا تعالیٰ کو مجسم سمجھتے ہیں۔وہ عقید تا اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر قسم کے تجسم سے پاک ہے مگر چونکہ عشق و محبت کا مادہ اس طریق اظہار کا عادی ہو چکا ہے، اس لئے خدا تعالیٰ کی نسبت بھی اسی قسم کے الفاظ کی استعمال کر لئے جاتے ہیں۔مثلاً جب ہم کہتے ہیں اے خدا! تو ہمیں مل جائے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کرتا ہے کہ خدا ( نَعُوذُ بِاللهِ ) کہیں بھولا بھٹکا پھر رہا ہے اور ہم اسے کہتے ہیں کہ وہ آئے اور ہم سے آکر مل جائے۔یہ صرف اپنے عشق کا اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کا اپنے ادراک میں آجانے کا نام ہم خدا تعالیٰ سے ملنا رکھتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اُس کا ادراک حاصل ہو جائے۔یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ کہیں کھویا ہوا ہے بلکہ ہمارے کمز ور نفوس میں اُس کا ادراک اگر مفقود ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ ہمیں مل جائے۔اور یا پھر اس کا یہ بھی مطلب ہوتا ہے کہ اس کے متعلق ہمارا ناقص ادراک کامل ہو جائے۔غرض عشق کے اظہار کے ہزاروں ذرائع ہیں۔اور ان تمام ذرائع کو اختیار کر نے کا نام ہی تصوف ہے اور اسی تصوف پر حقیقی قرب کی بنیاد ہوتی ہے۔لوگوں نے غلطی سمجھ رکھا ہے کہ تصوف نام ہے درود وظیفہ کا۔حالانکہ درود و وظیفہ کیا چیز ہیں؟ وہ صرف دوسروں کی دماغی نقل ہیں۔اور تصوف عشقی نقل کا نام ہے اور عشقی نقل کے مقابلہ میں دماغی نقل کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔