خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 627

خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۷ء برکت لے لیں۔چنانچہ جہاں رسول کریم ہے پیشاب کرنے بیٹھے تھے وہاں میں بھی بیٹھ جاتا ہوں اور جن پتھروں پر آپ نے نشست فرمائی تھی وہاں تھوڑی تھوڑی دیر کیلئے میں بھی بیٹھ جاتا ہوں۔یہ عشقی رنگ ہے جو حضرت عبد اللہ بن عمر میں پایا جاتا تھا کہ رسول کریم علیہ نے ایک کام کیا ہے ، میں بھی وہی کام کی کیوں نہ کروں۔خبر ہے اس میں ہی برکت ہو اور یہی وہ رنگ ہے جو انسان کو اعلیٰ درجہ کے مقامات تک پہنچا تا ہے۔پس ہر قسم کی نیکی کے حصول کیلئے جب تک انسان کامل اتباع نہیں کرتا اُس وقت تک وہ کمال حاصل نہیں کر سکتا۔تم مت خیال کرو کہ اگر تم جلسہ کیلئے چندہ جمع کر دیتے ہو تو تمہیں نیکی میں کمال حاصل ہو جاتا ہے یا تم جلسہ میں لیکچر دے دیتے ہو یا لیکچر سن لیتے ہو تو تم نیکیوں کو پورا کر لیتے ہو یا قادیان میں مکان بنا لیتے ہو یا جلسہ والوں کو مکان دے دیتے ہو تو نیکیوں کو پورا کر لیتے ہو یا مہمانوں کی خدمت کرتے ہو تو نیکیوں کو پورا کر لیتے ہو۔یہ الگ الگ اور انفرادی طور پر جس قدرخدمتیں ہیں ان کا بجالانا بھی ضروری ہے۔لیکن ان کے علاوہ اور بھی جس قدر خدمتیں ہیں ان سب میں حصہ لینا تمہارے لئے ضروری ہے۔کیونکہ جو شخص ساری خدمتیں کرتا ہے وہی جلسہ سالانہ کے سارے انعامات کا مستحق بنتا ہے۔اور یہ صرف جلسہ کی ہی بات نہیں دین کی ہر بات میں یہی فرض انسان پر عائد ہوتا ہے۔انسان کو حکم ہے کہ وہ نماز بھی پڑھے، وہ فرضی روزے بھی رکھے، وہ نفلی روزے بھی رکھی ، وہ فرضی زکوۃ بھی دے، وہ نفلی صدقہ و خیرات بھی دے۔وہ بنی نوع انسان کی خدمت بھی کرے، خواہ وہ خدمت لسانی ہو یا مالی ہو یا جسمانی ہو۔غرض ہر رنگ میں جب وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے راستہ پر ڈال دے تبھی اس کا دین کامل ہوسکتا ہے اور تبھی ہر رنگ میں وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے۔اور یہی جنت کے ہر دروازہ سے داخل ہونا ہے جو فخر کے قابل ہے اور جس سے ہر مومن اپنے اپنے ایمان اور اپنے اپنے عرفان کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ابو بکڑ کے دروازہ سے ہر شخص داخل نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر کوئی حضرت ابو بکر کی کے قدم پر قدم مارسکتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو بھی وہ انعام دینے کیلئے تیار ہے جو اس نے حضرت ابوبکر کیلئے تیار کیا۔اور اگر کوئی حضرت عمرؓ کے قدم پر قدم مار سکتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس کو بھی وہ انعام دینے کیلئے تیار ہے جو اس نے حضرت عمر کو دیا۔لیکن جو ان کے نقش قدم پر نہیں چل سکتا وہ ان سے اُتر کر اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلے۔لیکن بہر حال کوشش کرے کہ اس میں ہر قسم کی نیکیاں پیدا ہو جائیں۔یہی روحانیت کو۔