خطبات محمود (جلد 18) — Page 626
خطبات محمود ۶۲۶ سال ۱۹۳۷ء صلى الله گزرے ہیں۔پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نہایت اعلیٰ تفقہ رکھتے تھے اور مشہور فقیہہ تھے۔کئی جگہ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایات میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب وہ بعض مسائل بیان کرتے اور لوگ ان سے کہتے کہ آپ کے والد کی فلاں روایت اس کے خلاف ہے تو وہ بڑے جوش سے کہتے کہ میں رسول الله الا الله۔ایمان لایا ہوں۔میں نے رسول کریم ﷺ سے یہ بات یوں سنی ہے۔اگر میرے والد کو اس کے سنے کا موقع نہیں ملا تو میں تو وہی بات بیان کروں گا جو میں نے رسول کریم ﷺ سے منہ سے سنی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایتیں حضرت عمرؓ سے بہت زیادہ ہیں۔کیونکہ حضرت عبداللہ بن صلى الله عمر کو رسول کریم ﷺ کی باتیں سننے کا حضرت عمر سے بہت زیادہ موقع ملا کیونکہ وہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ قریباً ہر وقت رہتے تھے۔اور حضرت ابو ہریرہ کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عمر و بن العاص کی ہی روایات احادیث میں کثرت سے ملتی ہیں جو انہوں نے خود رسول کریم والے سے سنیں۔( حضرت ) عبد اللہ بن عباس کی روایات بہت ہیں لیکن ان میں سے اکثر وہ ہیں جو انہوں نے دوسرے صحابہ سے سنی ہیں )۔یہ عبداللہ بن عمرؓ جو اتنے بڑے پایہ کے بزرگ اور نیک انسان تھے۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ حج کیلئے گئے تو راستہ میں ایک مقام پر وہ پیشاب کرنے بیٹھ گئے۔پھر چلتے چلتے ایک پتھر آیا تو تو اُس پر بیٹھ گئے۔اسی طرح بعض اور پتھروں پر وہ تھوڑی تھوڑی دیر کیلئے بیٹھے اور پھر حج کیلئے مکہ پہنچ گئے۔جب حج کر کے واپس آئے تو پھر انہی پتھروں پر تھوڑی تھوڑی دیر کیلئے بیٹھے اور جب اس جگہ پہنچے جہاں انہوں نے پیشاب کیا تھا تو پھر وہاں پیشاب کرنے کیلئے بیٹھ گئے۔اس پر ان کے ایک ساتھی نے ان سے کی کہا کہ پہلے تو میں نے سمجھا کہ اتفاق سے آپ پیشاب کرنے یہاں بیٹھ گئے تھے اور ذرا دم۔پتھروں پر بیٹھتے گئے۔مگر جب واپسی پر آپ پھر انہی پتھروں پر بیٹھے ہیں اور اسی جگہ آپ نے آپ نے ی پھر پیشاب کیا ہے تو مجھے محسوس ہوا ہے کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ اس میں کوئی بات ہے۔ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جہاں آپ کو پہلے پیشاب آیا تھا آتی دفعہ بھی آپ کو اسی مقام پر پیشاب آتا اور جن پتھروں پر آپ پہلے بیٹھے تھے انہی پتھروں پر دوبارہ تھک کر بیٹھتے۔حضرت عبداللہ نے جواب دیا یہ ہے تو میرے ذوق کی بات مگر چونکہ تم نے پوچھا ہے اس لئے بتا دیتا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم ہے جب عمرہ تشریف لے گئے تھے تو آپ نے اسی جگہ پیشاب کیا تھا اور آپ انہی پتھروں پر تھوڑی تھوڑی دیر کیلئے آرام کرنے کی خاطر بیٹھے تھے۔2 میں جب یہاں سے گزرتا ہوں تو خیال آتا ہے چلو یہاں سے بھی