خطبات محمود (جلد 18) — Page 625
خطبات محمود ۶۲۵ سال ۱۹۳۷ء یہ صلى الله سے اندر جانا ہو تو یہ کوئی عزت کی بات نہیں ہو سکتی ۔ لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ نے اس میں بعض جنتیوں کو خاص قسم کی عزت کی بشارت دی ہے اس لئے یقیناً اس گزرنے سے ظاہری گزرنا مراد نہیں ہو سکتا بلکہ اس سے مراد مختلف قسم کے انعامات حاصل ہونا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انہیں اس قسم کے انعامات دیئے جائیں گے۔ گویا ساتوں دروازوں سے گزرنے کے معنے ہر قسم کی نیکیوں کے بدلے ہر قسم کے انعامات ملنے کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص ہر قسم کی نیکیاں کرے وہی ہر قسم کے انعامات کا مستحق ہوتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ چونکہ ہر قسم کی نیکیاں کرتے تھے اس لئے رسول کریم ﷺ یہ امید رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سلوک ان ۔ ، ان سے امتیازی رنگ میں ہوگا ۔ مگر یہ صفت صرف حضرت ابو بکر رض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ہی مخصوص نہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اُمت محمدیہ کے اور کئی بزرگ بھی ہر قسم کی نیکیوں کے حصول کیلئے بے چین رہتے تھے۔ بلکہ بعض بزرگ تو اتنا غلو کر لیتے تھے کہ ظاہر بین نگاہیں انہیں شاید پاگل ہی خیال کرتی ہوں لیکن وہ جو کچھ کرتے تھے محبت کے جوش میں کرتے تھے۔ ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قرآن پڑھتے تو جہاں زبان سے الفاظ کہتے جاتے وہاں اپنی اُنگلی بھی آیتوں پر پھیرتے جاتے ۔ کسی نے پوچھا آپ یہ کیا کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ قرآن کریم کی تلاوت میں زبان اور آنکھیں تو شریک ہوتی ہی ہیں اُنگلی کو بھی کیوں نہ اس کام میں شریک کیا جائے۔ چنانچہ میں آنکھوں سے قرآن کریم کی آیات دیکھتا جاتا ہوں ، زبان سے پڑھتا جاتا ہوں اور اپنی انگلی ساتھ ساتھ ہر آیت کے نیچے پھراتا جاتا ہوں ۔ تا میری آنکھیں ، میری زبان اور میرے ہاتھ سب تلاوت قرآن کے ثواب میں شریک ہو جائیں ۔ اس عمل کو تم غلو کہہ لو لیکن اس ذہنیت کی تعریف کئے بغیر تم نہیں رہ سکتے ۔ کیونکہ در حقیقت حقیقی کمال روحانیت کا یہی ہے کہ ہر قسم کی نیکی حاصل کی جائے ۔ جو شخص ایک قسم کی نیکی میں ہمیشہ حصہ لیتا ہے اس میں کچھ اس کی عادت کا بھی دخل ہو جاتا ہے اور جس نیکی میں عادت کا دخل ہو وہ انسان کو اتنے انعام کا مستحق نہیں بناتی جتنے انعام کا وہ نیکی مستحق بناتی ہے جو محبت کی وجہ سے کی جائے ۔ صحابہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کوئی رنگ نیکی کا جانے نہیں دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عمر کے لڑکے تھے لیکن بہت ہی باکمال صحابہ میں سے تھے ۔ اور صحابہ میں بہت کم ایسے لوگ ہوئے میں ہی بہت صلى الله ہیں جو باپ بیٹا دونوں عظیم الشان انسان ہوئے ہوں اور جن کو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں بڑی خدمت کا موقع ملا ہو۔ لیکن حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ دونوں نہایت جلیل القدر بزرگ