خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 61

خطبات محمود ۶۱ L سال ۱۹۳۷ء رب العلمین کے مظہر بنو فرموده ۱۹ مارچ ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض جو قرآن کریم کی میں عبودیت کا مقام حاصل کرنا بیان کی گئی ہے ، اس کی تشریح دوسرے لفظوں میں تَخَلَّقُوا بِاَخلاق الله ال ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر اختیار کرے اور اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوں۔اسی غرض کی طرف اشارہ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ان چار جامع صفات کے ساتھ شروع کیا ہے جن کے ماتحت باقی سب صفات آجاتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں کہ : اول خدا تعالی ہے۔دوم وہ الرَّحمن ہے۔سوم وہ رَحِیم ہے اور چہارم وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔یہ چار صفات بندے کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں تب جا کر وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے جس کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔یعنی اس کیلئے ضروری ہے کہ جس حد تک انسان رب العلمین کی صفت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ظلت ثابت کرے اور جس حد تک انسان رحمانیت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو رحمانیت کا نمائندہ ثابت کر۔