خطبات محمود (جلد 18) — Page 593
خطبات محمود ۵۹۳ سال ۱۹۳۷ء تمہیں کہا کہ اگر تم بالکل دینے کی طاقت نہیں رکھتے تو چندہ معاف کرالو۔مگر افسوس تم نے میری کسی رعایت سے فائدہ نہ اُٹھایا اور گنہگار ہونا پسند کر لیا۔یا درکھو مجھے روپے کی ضرورت نہیں ، میں اپنے لئے تم سے کچھ نہیں مانگتا۔میں خدا کیلئے اور اس کے دین کی اشاعت کیلئے تم سے مانگ رہا ہوں اور اگر تم اس چندہ میں حصہ نہیں لو گے تو خدا خود اپنے دین کی ترقی کا سامان کرے گا۔مگر میں اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دین کی ترقی میں حصہ نہ لے کر گنہ گار نہ بنو۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اس موقع کو غنیمت سمجھو اور خدمت اسلام کیلئے اپنے مالوں کو قربان کرو۔جو شخص تکلیف اُٹھا کر اس خدمت میں حصہ لے گا میں اُس کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ دعا کر چکے ہیں کہ اے خدا! وہ شخص جو تیرے دین کی خدمت میں حصہ لے تو اُس پر اپنے خاص فضلوں کی بارش نازل فرما اور آفات اور مصائب سے اسے محفوظ رکھ۔پس وہ شخص جو اس تحریک میں حصہ لے گا اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دعا سے بھی حصہ ملے گا اور پھر میری دعاؤں میں بھی وہ حصہ دار ہو جائے گا۔پس جو شخص اس تحریک میں حصہ لے سکتا ہے وہ لے اور اگر کوئی شخص اس میں حصہ نہیں لے سکتا تو میں اسے کہتا ہوں کہ تم ہر گز حصہ نہ لو، تم خدا کے حضور کی بری ہو۔اور جو لوگ زیادہ حصہ لے سکتے ہیں انہیں میں کہتا ہوں کہ میری حد بندیوں کو نہ دیکھو خدا تعالیٰ کے پاس غیر محدو د ثواب ہیں اگر تم زیادہ قربانی کرو گے تو زیادہ ثواب کے مستحق بنو گے۔غرض یہ تحریک جدید کا مالی حصہ ہے جس کا مطالبہ آج میں نے سب کے سامنے پیش کر دیا ہے اور میں نے بتا دیا ہے کہ یہ چندہ رفتہ رفتہ گھٹتے گھٹتے پچاس فیصدی تک آ جائے گا اور سات سال گزرنے کی کے بعد بند کر دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اُس وقت تک اس محکمہ کو ایسا مضبوط بنا دے کہ بہ اپنے پاؤں پر آپ کھڑا ہو جائے اور اپنی مستقل آمد سے تبلیغ کی ضرورتوں کو پورا کرتا چلا جائے۔اسی طرح وہ دوست جنہوں نے امانت فنڈ میں روپیہ جمع کرانے کا کام گزشتہ سالوں میں جاری رکھا ہے، انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی یہ بتا دیں کہ آئندہ کیلئے وہ اس سلسلہ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا بند کر نا چاہتے ہیں۔اگر بند کرنا چاہتے ہیں تو وہ ساتھ ہی یہ بھی بتادیں کہ وہ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں، روپیہ کو یا جائداد کو۔گوی مرکز اس بات کا پابند نہیں کہ وہ امانت جمع کرانے والے کو ضر ور ر و پی دے لیکن اس بات کی کوشش ضرور کی جائے گی کہ اگر روپیہ ہو تو انہیں روپیہ ہی واپس کیا جائے اور اگر روپیہ نہ ہوا تو انہیں قیمت خرید کے