خطبات محمود (جلد 18) — Page 589
خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۷ء طاقت کا ساتواں حصہ قربانی کرتا ہے۔لیکن پانچ روپے دینے کی طاقت رکھنے والا جب پانچ روپے ہی دے دیتا ہے تو وہ سو فیصد قربانی کرتا ہے۔پس خدا پانچ روپے دینے والے کو زیادہ ثواب دے گا اور تین سو روپے دینے والے کو کم کیونکہ وہ ثواب روپیہ کی مقدار پر نہیں دیتا بلکہ قربانی کی طاقت پر دیتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ چونکہ تم نے تین سو روپے دے دیئے ہیں اس لئے ضرور تم پانچ روپے چندہ دینے والے سے ثواب میں بڑھ کر رہو گے۔سینکڑوں پانچ روپے دینے والے ایسے ہوں گے جو تین سو روپے۔چندہ دینے والوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوں گے۔کیونکہ انہیں پانچ سے زیادہ روپے دینے کی توفیق نہیں تھی اور تین سو روپے دینے والوں کو یہ توفیق تھی کہ وہ چار سو دیتے یا پانچ سو دیتے یا ہزار بلکہ اس سے بڑھ کر دیتے۔پس اس سال کیلئے میری تحریک یہی ہے کہ جتنا کسی شخص نے اس تین سالہ دور کے پہلے سال چندہ دیا تھا اتنا ہی چندہ اس سال دے۔پھر میری سکیم یہ ہے کہ ہر سال اس چندہ میں سے دس فیصدی کم کرتے چلے جائیں گے۔یعنی جس نے اس سال سو روپیہ چندہ دیا ہے اس سے اگلے سال نوے کی روپے لئے جائیں گے۔پھر اس سے اگلے سال اسی روپے پھر تیسرے سال ستر روپے پھر چوتھے سال ساٹھ روپے پھر پانچویں سال پچاس روپے اور پھر یہ پچاس فیصدی چنده باقی دو سال مسلسل چلتا چلا جائے گا اور ساتویں سال کے بعد چندے کے اس طریق کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ مطلب تو نہیں کہ پھر سات سال کے بعد چندہ کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔چندے تو صدرانجمن احمدیہ کی ضروریات کیلئے بھی ہوتے ہیں۔ممکن ہے خدا تعالیٰ اور کوئی کام پیدا کر دے مگر تحریک جدید کی سکیم کے بارہ میں میری سکیم ایسی کی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس رنگ میں چندہ کی ضرورت نہ رہے گی إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَی۔اور ان سالوں میں اس کی اپنی ذاتی آمد ایسی ہو جائے گی جو اس کام کو جاری رکھنے کیلئے کافی ہو۔اس سکیم پر کسی شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ جماعت پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کیونکہ میں اس چندہ کیلئے کسی کو مجبور نہیں کرتا۔میں ان کو مخاطب کر رہا ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی ہے اور جو میری آواز پر لبیک کہنے میں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے۔پس وہ جو مالی وسعت رکھتے ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی کے دن اچھے بنا لو اور ثواب کا جو یہ موقع ہے اس سے فائدہ اُٹھا کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو اور جو لوگ پہلے سے بھی زیادہ بوجھ اُٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ تم نے پہلے بھی ثواب کمایا اور اب اور ثواب کی