خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 582

خطبات محمود ۵۸۲ سال ۱۹۳۷ء کریں اور مالکیت کو بھی۔پھر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم غرباء کی خبر گیری کریں اور انہیں اٹھانے کی کوشش کریں اور امراء کا بھی خیال رکھیں اور انہیں عیش پسند زندگی میں پڑنے سے محفوظ رکھیں۔غرض ایک وسیع نظام کی ضرورت ہے جس کے ماتحت اسلام کے تمام احکام عملی رنگ میں دنیا کے سامنے آسکتے ہیں۔بے شک اس نظام کا ایک حصہ وہ ہے جو حکومت سے تعلق رکھتا ہے لیکن ملکیت کا بھی ایک حصہ حکومت نے رعایا کے سپر د کر رکھا ہے۔اور پھر اسلام کا وہ نظام جو اہلی اور عائلی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، اسے تو کلی طور پر ہم قائم کر سکتے ہیں کیونکہ حکومت کی طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔پس جب حکومت ایک بات میں دخل نہیں دیتی اور ہم اس میں اسلامی تعلیم جاری کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس معاملہ میں اسلامی احکام کا اجراء نہ کریں۔نادان کہتے ہیں کہ ہمارے ذاتی معاملات میں دخل دیا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں اگر تم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے تو تم ہمارے پاس آئے کیوں تھے۔تم نے جب خدا کو رب العلمین تسلیم کیا ہے تو تم خدا تعالیٰ کے دین کے جس نمائندہ کے پاس بھی جاؤ گے وہ تمہارے باپ کے طور پر ہو گا اور س کا حق ہوگا کہ وہ تمہارے ذاتی معاملات میں دخل دے۔اور اگر وہ دخل نہ دے تو اسلام کی تعلیم لوگوں کے گھروں میں کس طرح قائم ہوسکتی ہے۔پس جب تک خدا تعالیٰ موجودہ حکومتوں اور پارلیمنٹوں کو احمدی نہیں بنا دیتا اُس وقت تک اسلامی نظام کے وہ حصے جن پر عمل کیا تھی جاسکتا ہے ضروری ہے کہ ان پر عمل کیا جائے اور جب حکومتیں احمدی ہو جائیں گی تو اُس وقت اسلامی نظام کا مکمل ڈھانچہ تیار ہوگا۔اور اُس وقت دنیا کو معلوم ہوگا کہ اسلام کی تعلیم اور اسلام کا نظام کس قدر پر امن ہے۔آج کو حکومتیں احمدی نہیں مگر کئی امور ایسے ہیں جن میں حکومت روک نہیں بنتی۔مثلاً زکوۃ ہے موجودہ گورنمنٹیں زکوۃ نہیں لیتیں اور اگر کوئی زکوۃ وصول کرے تو اُس کے راستہ میں روک نہیں ڈالتیں۔پس جب حکومت خود ایک بات کی ہمیں اجازت دیتی ہے یا کم از کم اس میں روک نہیں بنتی تو ہم کیوں اس سے فائدہ نہ اُٹھائیں اور کیوں اس میں اسلامی نظام قائم نہ کریں۔پس جتنے حصے اسلامی نظام کے ہیں ان میں سے جن حصوں کو موجودہ بادشاہت نے اپنے اندر شامل نہیں کیا ہمارا حق ہے کہ ان کو استعمال کریں اور ان کے ماتحت لوگوں کو چلنے پر مجبور کریں۔زکوۃ کی میں نے صرف ایک مثال دی ہے ورنہ اور ان بھی کئے ایسے مسائل ہیں جو شریعت نے ملکیت سے متعلق رکھے ہیں۔لیکن موجودہ حکومتوں نے ان کو اپنے حدود و اختیار سے باہر رکھا ہے۔اور اگر ان کا انتظام کیا جائے تو حکومت کا کوئی قانون ان