خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 580

خطبات محمود ۵۸۰ سال ۱۹۳۷ء رہو۔ہاں جب تم اپنے ہاتھوں سے بھی بنی نوع انسان کی خدمات بجالاؤ گے تو تم رب العلمین کی صفت کے بھی مظہر بن جاؤ گے۔پھر جب میں نے کہا کہ تحریک جدید کے بورڈنگ میں اپنے بچوں کو داخل کراؤ تو یہ تمہیں صفت رحیمیت کا مظہر بنانے کیلئے مطالبہ کیا۔کیونکہ رحیمیت کہتی ہے کہ تم ایسی اعلیٰ تربیت کرو اور ایسی عمدہ ان خوبیاں مخلوق میں پیدا کرو کہ جن سے وہ دوامی زندگی اختیار کر لے۔پھر یہ تحریک ایک رنگ میں رب العلمین کی صفت کے ماتحت بھی ہے یعنی قوم کے ہر شعبہ کی اصلاح کی جائے۔اسی طرح جب میں نے سادہ زندگی اختیار کرنے کیلئے کہا تو یہ مطالبہ صفت رحمانیت اور صفت ملکیت کے ماتحت آتا تھا۔کیونکہ ہر وہ قوم جو اپنی زندگی عیش پسند بنالیتی ہے غرباء کی خدمت میں حصہ نہیں لے سکتی۔حالانکہ رحمانیت کی صفت چاہتی ہے کہ مزدوروں سے ہی نہیں بلکہ غیروں سے بھی سلوک کیا جائے اور پھر اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس سامان ہوں اور سامان تبھی ہو سکتا ہے جب اس کی زندگی کو بعض قیود کے اندر رکھا جائے۔جو شخص بعض قیود کے اندر اپنے آپ کو نہیں رکھتا وہ موقع پر ضرور فیل ہو جاتا ہے۔پھر ایک ملک ہونے کے لحاظ سے بھی سادہ زندگی ضروری ہے کیونکہ ملک کیلئے سپاہ ضروری ہے اور سپاہی کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ جفا کش ہو۔ورنہ فوج جس کے سپاہی ترقہ 19 میں زندگی بسر کرتے ہوں لڑائی میں کام نہیں آسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک کی بادشاہ تھا جسے یہ وہم ہو گیا کہ سپاہیوں پر روپیہ فضول برباد کیا جاتا ہے ملک میں جو ہزاروں لاکھوں قصائی موجود ہیں یہی لڑائی کیلئے کافی ہیں۔جب جنگ کا موقع ہوا انہیں بلایا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اُس نے تمام سپاہی موقوف کر دیئے۔جب یہ خبر ارد گرد پھیلی تو اس کے قریب ہی ایک اور با دشاہ تھا جو اس کا دشمن تھا۔اُس نے دیکھا کہ یہ موقع عمدہ ہے۔اب فوجیں اس نے موقوف کر دی ہیں اس پر حملہ کر دینا چاہئے۔چنانچہ وہ اپنی فوج لے کر ملک پر حملہ آور ہو گیا۔بادشاہ کو جب یہ خبر پہنچی تو اُس نے حکم دیا کہ فوراً تمام قصائیوں کو جمع کیا جائے اور ایک فوج بنا کر انہیں کہہ دیا جائے کہ دشمن پر حملہ کر دیں۔اس پر اول تو اُن قصائیوں کو جمع کرنے میں بہت دیر لگی اور اتنے عرصہ میں دشمن کی فوجیں شہر کے قریب آگئیں۔لیکن خیر جد وجہد کے بعد قصائیوں کو جمع کر کے میدانِ جنگ میں بھیج دیا گیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بادشاہ نے کیا دیکھا کہ وہ تمام قصائی بھاگے چلے آرہے ہیں اور بادشاہ -