خطبات محمود (جلد 18) — Page 575
خطبات محمود ۵۷۵ سال ۱۹۳۷ء قرآن کریم میں اس طرح ذکر آتا ہے کہ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ لے کہ شاعروں کے پیچھے غاوی آیا کرتے ہیں۔وہ شاعر تھے اور میں غاوی ہوں۔قرآن کریم کی اس آیت کا تو یہ مطلب ہے کہ شاعروں کے پیچھے چلنے والے گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔کیونکہ شاعر کوئی حقیقت بیان نہیں کرتے۔کبھی رنج کی بات پر شعر کہہ دیں گے، کبھی خوشی کی بات پر، کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ۔ان کا کوئی اصول نہیں ہوتا۔تو ایسے لوگوں کے پیچھے چلنے والے غاوی ہی ہوتے ہیں۔نیک آدمی جو حقیقت کا متلاشی ہوتا ہے شعراء کے پیچھے نہیں جاتا۔لیکن اُس نے اپنی بات میں لطیفہ پیدا کرنے کیلئے کہا کہ شاعروں کے پیچھے ناوی آیا کرتے ہیں ، آپ مجھے غاوی سمجھ لیجئے۔بادشاہ کو اُس کا یہ لطیفہ پسند آ گیا اور اُس نے حکم د۔کہ اسے بھی کچھ انعام دے دیا جائے۔یہ تو ایک لطیفہ ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسا آدمی جو مذہب کی حقیقت کو سمجھ کر مذہب میں شامل نہیں ہوتا ، غاوی ہی ہوتا ہے۔وہ چند مسائل سنتا ہے اور سمجھتا ہے کہ احمدیت انہی چند مسائل کو مان لینے کا نام ہے۔وہ مسلمان ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مسلمان ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھ لیا جائے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ لا الہ الا اللہ کی تفسیر سارا قرآن ہے۔اس سارے قرآن پر عمل کئے بغیر وہ کس طرح مسلمان ہو سکتا ہے۔جس طرح انسان کسی ایک عضو کا نام نہیں بلکہ انسان مجموعہ ہے ناک کا، کانوں کا، آنکھوں کا منہ کا، گردن کا ، سرکا، سینہ کا ، دھڑ کا ، ہاتھوں کا اور پاؤں وغیرہ کا اور ان میں سے کوئی چیز الگ نہیں ہو سکتی۔نہ ہاتھ الگ کی ہو سکتے ہیں نہ پاؤں الگ ہو سکتے ہیں۔نہ سر لگ ہو سکتا ہے نہ دھڑا الگ ہو سکتا ہے۔اسی طرح لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ نے سے بے شک انسان کو مسلمان کا نام حاصل ہو جاتا ہے مگر یہ ایسا ہی نام ہے جیسے اعضاء کے مجموعہ کا نام انسان ہے۔جس طرح ان اعضاء کے بغیر انسان نہیں ، اسی طرح ان تفاصیل کے بغیر اسلام نہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ایک مفردے نہیں بلکہ وہ چار اعضائے روحانی کا نام ہے۔الملک کے بروز کا اور الحق کے بروز کا اور توحید کے بروز کا اور ربوبیت کے بروز کا۔یعنی انسان کو لا اله الا اللہ کہنے والا تب کہا جا سکتا ہے جب وہ رَبُّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور ملِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کا مظہر ہو۔اگر کوئی شخص ان صفات کو اپنے اندر پیدا نہیں کرتا اور محض زبان سے لا الہ الا اللہ کہے چلا جاتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی ایسی چیز کو آدمی آدمی کہتا رہے جس کا نہ دل ہو نہ دماغ ہو نہ منہ ہو۔یہ لوگ بھی گویا غادی ہوتے ہیں جو احمدیت کی