خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 571

خطبات محمود ۵۷۱ سال ۱۹۳۷ء کے ساتھ ان بزرگوں کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرے گا۔ یہی حال عیسائیوں کا ہے اور یہی حال دوسری قوموں کا ہے۔ پس رسول کریم ﷺ نے نہ صرف اپنی قوم کی ترقی کے راستے کھولے بلکہ دوسری قوموں کی روایات کو بھی صاف کیا اور ان کے سامنے بھی ان کے بزرگوں کے اعلیٰ نمونے پیش کئے جن کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے وہ عظیم الشان ترقی کر سکتے ہیں ۔ پھر آپ نے ملائکہ پر بھی احسان کیا ۔ طرح طرح کے الزام تھے جو ان پر لگائے جاتے تھے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ہے کہ ملائکہ گنہ گار نہیں ان کے اندر خدا تعالیٰ نے انکار کا مادہ ہی نہیں رکھا۔ انہیں جو بھی حکم ہے اس کی وہ اطاعت کرتے ہیں ۔ پس ان پر کسی قسم کا الزام لگانا اور یہ کہنا کہ انہوں نے بھی فلاں گناہ کیا سخت ظلم ہے ۔ ۔ صلى الله م صلى الله پھر رسول کریم ﷺ نے دنیا کے ہر گنہگار پر احسان کیا اور اس کے دل کو خوشی سے لبریز کر دیا۔ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے ساری دنیا یہ کہا ساری دنیا یہ کہا کرتی تھی کہ گنہگار کہ گنہگار ہمیشہ کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو شخص ایک دفعہ جہنم میں چلا گیا پھر وہ وہاں سے نہیں نکل سکے گا ۔ گویا دنیا گنہگاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کرتی تھی اور توبہ کا دروازہ اس پر بند بتلاتی تھی۔ مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسان کتنا ہی گنہگار ہو جائے ، اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے کیلئے تیار ہے ۔ بیشک گنہگاروں کے گناہ بہت بڑے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا رحم اس سے بھی بڑا ہے ۔ ! بڑا ہے ۔ پس تم اس بات سے مت گھبراؤ کہ تم گناہوں میں ملوث ہو، تم تو بہ کرو کہ خدا آج بھی تمہیں معاف کرنے کیلئے تیار ہے۔ کتنی امید ہے جو گنہگاروں کے دلوں میں رسول کریم ﷺ نے پیدا کر دی ۔ کتنی اُمنگ ہے جو آر ہے جو آپ نے ان کے قلوب میں پید کر دی ۔ غرض رب العلمین کی صفت اعلیٰ درجہ کے کمال کے ساتھ محمد ﷺ میں ظاہر ہوئی محمد اللہ میں ظاہر ہوئی اور ان سے اُتر کر امت محمدیہ کے اور بہت سے اولیاء و صلحاء میں ظاہر ہوئی اور ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ غرض یہ چاروں صفات جو اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں انہی کے ماتحت دنیا میں امن قائم ہو سکتا ، ہے۔ اگر قانون نہ ہو اور پھر اس قانون کا نفاذ نہ ہو تو ہرگز امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر صحیح رنگ میں تربیت نہ ہو اور اہلی اور عائلی زندگی درست نہ ہو تب بھی امن مفقود ہوتا ہے اور کبھی سچی راحت انسان کو حاصل نہیں ہو سکتی ۔ دنیا میں محض حکومت کے قوانین کی پابندی سے امن قائم نہیں ہوتا بلکہ امن اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کی اہلی اور عائلی زندگی ہر قسم کے جھگڑوں اور مناقشات سے پاک ہو ۔ تم چوری