خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 553

خطبات محمود ۵۵۳ سال ۱۹۳۷ء ہمیں اسے قائم رکھنا چاہئے۔پھر صفت الحق جو ہے یہ اخلاق فاضلہ اور عمل کی درستی پر دلالت کرتی ہے ہے۔رحیمیت کے معنے ہیں اچھے کام کا بدلہ دینا اور یہ چیزیں اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔اچھے کام ہوں تو بدلہ دیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں اور جس طرح ملکیت کے نظام کو قبول کرنے کیلئے انسان کے اندر قابلیت رکھی تھی اور اسے مدنی الطبع بنایا تھا، اسی طرح الحق کے مقابلہ پر اخلاق فاضلہ انسان کو دیئے ہیں۔مذاہب ہو یا نہ ہو، تعلیم ہو یا نہ ہو ، تمدن ہو یا نہ ہو، اخلاق سے کورا کوئی انسان نہیں ہوسکتا۔ذرا خلاف اخلاق بات کر کے دیکھو فوراً چہرہ سرخ ہو جائے گا اور پسینہ بہنے لگے گا۔جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ فطرت بول رہی ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلى فِطْرَةِ الاسلام کے یہاں اسلام سے مرا یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانونِ حقہ کی فرمانبرداری بچہ میں پائی جاتی ہے۔اسی فطرت پر بچہ پیدا ہوتا ہے۔بعد میں اس کے ماں باپ اپنے رنگ میں رنگین کر لیتے ہیں۔جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جائے تو بے شک انسان بے حیا ہو جاتا ہے لیکن پہلا جھوٹ بولتے ہوئے اُس کا رنگ ضرور فق ہوگا کیونکہ اُس کی فطرت میں سچائی ہے۔بے شک کسی کو چوری کی اتنی تی عادت ہو جائے کہ وہ سب مال سمیٹ کر اپنے قبضہ میں کر لینے کی حرص رکھتا ہومگر پہلی چوری کرتے ہوئے ضرور اُس کا ہاتھ کا نا ہوگا۔کیونکہ اخلاق فاضلہ کو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں داخل کیا ہے۔جب خدا تعالیٰ بدلہ دینا چاہتا تھا تو اس کیلئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ بھی ہونی چاہئے تھی۔لا إلهَ إِلَّا هُوَ کے ساتھ قربانی اور ایثار کا تعلق ہے۔رحمانیت کا یہی مطلب ہے کہ بغیر مزدوری کے دیا جائے۔یہ چیز بھی انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے۔اس کی مثال ماں باپ میں ملتی ہے۔و قطع نظر اس خیال سے کہ بچہ کبھی ان کے کام آئے گا یا نہیں ، اسے پالتے پوستے ہیں، اسے تعلیم دلاتے ہیں اور یہ سب کچھ اس کی طرف سے کسی محنت کے بغیر یا بدلہ کی امید کے بغیر کرتے ہیں۔ہاں جو لوگ پیدائش میں کامل نہ ہوں وہ اخلاق میں بھی کامل نہیں ہو سکتے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ہیجڑا بزرگ نہیں ہوا۔وہ چونکہ کامل الخلق نہیں ہوتا اس لئے کامل الاخلاق بھی نہیں ہو سکتا۔کامل الاخلاق ہونے کیلئے کامل الخلق ہونا ضروری ہے۔اس نکتہ کو علم نفس والوں نے خوب سمجھا ہے اور ایک نے تو اسے ایسے لطیف رنگ میں بیان کیا ہے کہ اس کا خیال الہام کی حد تک پہنچ گیا ہے۔امریکہ کے ایک شخص نے علم النفس کے متعلق سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔اس میں