خطبات محمود (جلد 18) — Page 548
خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۷ء چاہتا تھا کہ ظاہر ہو۔ یہ چاروں صفات اپنا اظہار چاہتی تھیں اس لئے اس نے دنیا کو پیدا کیا۔ ان چاروں صفات پر غور کرو تو یہ وہی ہیں جو سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں ۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۔ کے یعنی اللہ تعالٰى رَبِّ العَلَمِينَ الرَّحْمَنِ ہے الرَّحِیمِ اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے۔ یہاں بھی وہی چاروں صفات بیان کی گئی ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب بدل دی گئی ہے۔ سورۂ فاتحہ میں جو پہلے بیان کی تھی یہاں وہ آخر میں رکھ دی۔ پھر اسی ترتیب سے سب صفات کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں الْمَلِكُ جو آیا ہے یہ ملک يَوْمِ الدِّینِ کی طرف اشارہ ہے۔ علم القرآت سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی جگہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ پڑھا ہے ۔ غرض الْمَلِكُ کا لفظ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ سورہ فاتحہ میں ملِكِ يَوْمِ الدِّین سے پہلے الرَّحِیمِ ہے۔ یہاں الْمَلِكُ کے بعد الْحَقُّ رکھا گیا ہے ۔ سورہ فاتحہ میں الرَّحِیمِ سے پہلے الرَّحْمنِ ہے۔ یہاں الْحَقُّ کے بعد اس کی طرف اشارہ کرنے کیلئے لا إِلهَ إِلَّا هُوَ رکھا گیا ہے ۔ سورہ فاتحہ میں اَلرَّحِمْنِ سے پہلے رَبِّ العَلَمِينَ ہے۔ یہاں اس کی جگہ سب سے آخر میں رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ رکھا گیا ہے ۔ گویا سورہ فاتحہ کی مذکورہ صفات اور اس آیت مذکورہ صفات میں صرف یہ فرق ہے کہ ایک تو ترتیب اُلٹ دی ہے دوسرے درمیانی دو صفات کو دوسرے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ یعنی رحیمیت کی طرف اشارہ الْحَقُّ سے اور رحمانیت کی طرف اشارہ لَا اِلهَ إِلَّا هُوَ سے کیا گیا ہے ۔ غرض یہ صفات وہی سورہ فاتحہ والی صفات ہیں ۔ مزید تشریح کیلئے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ ملک بادشاہ کو کہتے ہیں اور ملکیت ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی ذات کے ظہور کا موجب اور منبع ہے کیونکہ ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے معنی ہیں جزا سزا کے دن کا مالک ۔ اور جزا سزا مترتب نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پہلے کوئی قانون نہ ہو۔ چنانچہ اگر ہماری شریعت میں نماز کا حکم نہ ہوتا تو کیا ہم مسلمانوں سے یہ پوچھ سکتے تھے کہ تم نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ؟ اگر ہم ایسا کرتے تو یقیناً وہ جواب دیتے کہ ہمیں ایسا کوئی خاص حکم نہیں ہے ۔ غرض جسے حکم نہ ہو اُس سے رپورٹ بھی نہیں لی جاتی اور ایسا شخص مجرم بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ پس مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ نتیجہ ہے ملکیت کا ۔ کیونکہ پہلے قانون کا نفاذ ہو پھر اس کے متعلق جواب طلبی ہو سکتی ہے ۔ ملک کے بعد اس سورۃ میں الحق کی صفت بیان کی گئی ہے اور ادنی غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ الْحَقُّ رحیمیت کا منبع